پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 222

پردہ — Page 14

پرده بجائے جھک جاتی ہے۔اور اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ عز وجل کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو۔(سنن دارمی، کتاب الجھاد، باب فی الذي يسهر في سبيل الله حارساً) تو دیکھیں تحقیق بصر کا کتنا بڑا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں ، شہید ہونے والوں یا دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والی آنکھ کا رتبہ ایسے لوگوں کو حاصل ہورہا ہے۔اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ، ہمیشہ عبادت بجالانے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت علیم نے فرمایا: راستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ ہمیں رستوں میں مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر رستے کا حق ادا کرو۔انہوں نے عرض کی کہ اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، تحص بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی رہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور نا پسندیدہ باتوں سے روکو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 61 مطبوعہ بیروت) دیکھیں کس قدر تاکید ہے کہ اول اگر کام نہیں ہے تو کوئی بلا وجہ راستے میں نہ بیٹھے اور اگر مجبوری کی وجہ سے بیٹھنا ہی پڑے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔بلا وجہ نظریں اٹھا کے نہ بیٹھے رہو بلکہ غض بصر سے کام لو، اپنی نظروں کو نیچا رکھو، کیونکہ یہ نہیں کہ ایک دفعہ نظر پڑ گئی تو پھر ایک سرے سے دیکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی چلے گئے۔أم المؤمنین حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں آنحضرت مسلم کے پاس تھی اور میمونہ بھی ساتھ تھیں۔تو ابن ام مکتوم آئے یہ کے حکم کے نزول سے بعد 14