پردہ — Page 147
اسی ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کو معاشرتی خوف کے نتیجہ میں ایمانی کمزوری کے اظہار اور قرآنی احکامات پر عمل نہ کرنے پر اجر اور ثواب سے محروم رہ جانے والے پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: پس ان لوگوں ( اس معاشرہ) کی باتوں سے کبھی کوئی نوجوان بچی خوفزدہ نہ ہو۔نہ ہی کسی قسم کی شرم کی ضرورت ہے۔قرآن کریم ایک کامیل کتاب ہے اور اس کا ہر حکم فطرت کے عین مطابق ہے۔اور اس کا اب تک اصلی حالت میں رہنا اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا ایک ثبوت ہے۔۔۔لیکن اگر اللہ تعالی کے احکامات کو اس لئے نہیں بجالا رہی کہ لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، پر دے اس لئے اتر رہے ہیں کہ لوگ ہمیں گھورتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں تو پھر یہ نہ ہی اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے اور نہ ہی اس کا خوف ہے ، نہ اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔اگر بعض فیشن آپ اس لئے کر رہی ہیں کہ یہاں کا معاشرہ یہ پسند کرتا ہے کہ گھٹنوں سے اونچے اونچے او ٹنگے کوٹ جو ہیں وہ پہن لئے یا تنگ کوٹ پہن لئے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔اُس سے بے پردگی ہوتی ہے اور اس سے آپ کے جسموں کی نمائش ہورہی ہے تو یہ ایمان کی کمزوری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ سے محبت میں کمی ہے۔اللہ تعالی تو اپنے بندے کو ہر نیکی کے بدلے میں دس گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ثواب پہنچانا چاہتا ہے۔اور ہم دنیا کے خوف یا دنیا کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکامات نہ بجالا کر اس ثواب سے محروم ہو رہے ہیں اور اب یہ صورتحال ہے تو پھر دیکھیں یہ کس قدر گھاٹے کا سودا ہے۔پس اگر جائزہ لیں تو انسان ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا انکار کر کے ان اجروں سے محروم ہو رہا ہے جو خدا تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا ہے اور مغربی سوچ کے زیر اثر یہ سب کچھ ہورہا ہے۔“ خطاب از مستورات جلسه سالانہ جرمنی 15 / اگست 2009، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 رمئی 2014 ء ) پرده 147