پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 222

پردہ — Page 139

پھر فرمایا: اتنی شرم و حیا ہونی چاہئے کہ لباس مکمل ہوا اور ننگ نہ ہو۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر فرمایا جس کا بیان قرآن کریم کی سورۃ القصص میں ہوا ہے کہ جب آپ مدین کے پانی کے گھاٹ پر پہنچے اور دو عورتوں کے جانوروں کو پانی پلایا تو بعد میں ان میں سے ایک تمشی عَلَی اِسْتَحْيَاءِ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حیا سے بجاتی ہوئی آئی۔حضور انور نے فرمایا : ”اصل حیاہی ہے۔یہ ماؤں کا فرض ہے کہ بچیوں کی تربیت کریں اور ان کے ذہنوں میں ڈالیں اور ان کو بتائیں کہ یہ نقصانات ہیں اور پرده یہ فوائد ہیں۔“ میٹنگ نیشنل مجلس عاملہ مجنہ اماءاللہ جرمنی 18 دسمبر 2009, مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 29 جنوری 2010ء) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی ماؤں کو تربیت اولاد کی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کرنے کی تربیت دیں۔حضور انور نے ارشاد فرمایا: ”جو مائیں بچپن سے ہی اپنے بچوں کے لباس کا خیال نہیں رکھیں گی وہ بڑے ہو کر بھی ان کو سنبھال نہیں سکیں گی۔بعض بچیوں کی اُٹھان ایسی ہوتی ہے کہ دس گیارہ سال کی عمر کی بچی بھی چودہ پندرہ سال کی لگ رہی ہوتی ہے۔ان کو اگر حیا اور لباس کا تقدس نہیں سکھائیں گی تو پھر بڑے ہو کر بھی ان میں یہ تقدس کبھی پیدا نہیں ہوگا۔بلکہ چاہے بچی بڑی نہ بھی نظر آرہی ہو، چھوٹی عمر سے ہی اگر بچیوں میں حیا کا یہ مادہ پیدا نہیں کریں گی اور اس طرح نہیں سمجھائیں گی کہ دیکھو تم احمدی ہو، تم یہاں کے لوگوں کے ننگے لباس کی طرف نہ جاؤ تم نے دنیا کی رہنمائی کرنی ہے ہم نے اس تعلیم پر عمل کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اس لئے تنگ جینز اور اس کے اوپر 139