پردہ — Page 115
کہ اپنے لباس کو حیا دار بناؤ اور پر دے کا خیال رکھو۔جس کو وہ چھوٹی نیکی سمجھ کر توجہ نہیں کر رہی یہی ایک وقت میں پھر اس کو بڑی برائی کی طرف بھی دھکیل دے گی۔غرض کہ ہر نیکی اور گناہ کا معیار ہر شخص کی حالت کے مطابق ہے اور مختلف حالتوں میں مختلف لوگوں کے عمل نیکی اور بدی کی تعریف اُس کے لئے بتلا دیتے ہیں۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 13 / دسمبر 2013 بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 جنوری 2014ء) عربوں اور ترکوں میں برقع کا رواج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر احمدی خواتین اور بچیوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے پر دے کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے ارشاد فرمایا: رض حضرت مصلح موعودؓ نے مختلف صورتیں بیان کرنے کے بعد فرمایا تھا کہ آج کل عربوں یا ترکوں میں جو رواج ہے برقع کا یہ بڑا اچھا ہے۔لیکن وہی کہ کوٹ کھلا ہونا چاہئے۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکثریت ایسی خواتین کی ہے جو بعض قسم کے کوٹوں کو پسند نہیں کرتیں اور اگر کسی کا دیکھ لیں تو خط لکھتی رہتی ہیں اور بہت سوں نے ایک دفعہ سمجھانے کے بعد اپنی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔لیکن فکر اس لئے پیدا ہوتی ہے جب بعض بچیاں اسکولوں کالجوں میں جھینپ کر یا شرما کر اپنے برقعے اتار دیتی ہیں۔وہ یا درکھیں کہ کسی قسم کے کمپلیکس میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنے میں برکت ہے۔تیسری دنیا کے ایسے ممالک افریقہ وغیرہ جو بہت پسماندہ ہیں وہاں تو جوں جوں تعلیم اور تربیت ہو رہی ہے اور لوگ جماعت میں شامل ہورہے ہیں اپنے لباسوں کو ڈھکا ہوا بنا کر پرده 115