قیام پاکستان کا روحانی پس منظر

by Other Authors

Page 7 of 49

قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 7

وا أَسْفَا عَلَى فِرَاقَ قَوْمٍ هُمُ الْمَصَابِيحُ وَالْحُصُونَ والْمُدُنُ وَالْمُزْن والرواسي وَالْخَيرُ والامن والسكون یعنی ہائے افسوس ! اُن لوگوں کی جدائی پر جو دنیا کے لئے سورج کا کام دے رہے تھے اور جودنیا کے لئے قلعوں کا رنگ رکھتے تھے لوگ ان سے نور حاصل کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذابوں اور مصیبتوں سے دنیا کو نجات ملتی تھی حقیقت میں وہی شہر تھے جن سے تمام دنیا آباد تھی۔وہی بادل تھے جو سو کھی ہوئی کھیتیوں کو ہرا کر دیتے تھے۔وہی پہاڑ تھے جس سے دنیا کو اتمام تھا۔اسی طرح وہ تمام بھلائیوں کے جامع تھے اور دنیا ان سے امن اور سکون حاصل کر تی تھی۔عرش پر دُعاؤں کا عظیم الشان خزانہ نکہت و ادبار اور ہر میت و پسپائی کے اس تاریک دور میں جبکہ ہندوستان سے لے کر الجیریا تک کی دنیائے اسلام پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور مسلمان کہلانے والی حکومتیں استعماری طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر مردہ بیمار کی طرح سیسک رہی تھیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بے مثال قوت قدسی اور عدیم النظیر فیضان نے شاہراہ غلبہ اسلام کی تیاری کے لئے دوبارہ اس برصغیر پر نگاہ رحمت فرمائی اور اسے