قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 6
مسلمانوں نے اپنے ہزار سالہ عہد حکومت میں ہندوستان کو اپنے فہم و تدبر، فوجی قابلیت علمی استعداد اور سب سے بڑھ کر روحانی مجاہدات سے ہمدوش ثریا بنا دیا۔چنانچہ یہ حقیقت ہو کے مسلمانوں نے دس صدیوں تک بر صغیر کی عظمت کو چار چاند لگانے کے لئے قابل فخر مسلسل اور منظم جد و جہد کی ہے اور پشاور سے منی پور تک اور ہمالیہ سے مدر اس تک اُن اہل اللہ کی بے شمار قبریں موجود ہیں جنہوں نے اپنی نیم شبی دعاؤں سے اس خطہ ارض کو برکت بخشی ہے اور مسلم ہند میں پیدا ہونے والے ہزاروں لاکھوں ولی امجد د صوفی ابدال و اقطاب جن کی خاک پانے اپنے باطنی فیض سے اس ملک کو رشک جناں اور جنت ارض بنا یا سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان اور بنگال ہی میں نہیں ہر علاقہ میں زیر خاک آسودہ ہیں اور عظمت اسلام کا خزانہ گویا گھنا پڑا ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کے ان بے شمار روحانی بادشاہوں باطنی تاجداروں کی رہین منت ہے جب تک مسلم حکومت کا دعاؤں کے آسمانی اور محمدی پاور اسٹیشن سے رابطہ قائم رہا وہ عروج و ترقی کے میدان میں پوری تیز رفتاری سے رواں دواں رہی مگر جب مسلمان حفاظت و سالمیت اور عظمت و شوکت کے اس سب سے طاقت ور سریشمہ اور منبع کو فراموش کر کے محض دنیوی وسائل کا سہارا تلاش کرنے لگے تو ان پر یکا یک زوال آگیا اور یہ سر زمین جو اولیاء واصفیاء سے بھری ہوئی تھی اپنی دعاؤں سے عرش کو ہلا دینے والوں سے دیکھتے دیکھتے خالی ہو گئی۔