قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 31
۳۱ کے فضل سے خرچ ہو گی اور دُنیا میں کوئی بڑی سے بڑی طاقت میرے اس ارادہ میں حائل نہیں ہوگی۔یکی جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے نقطہ نگاہ کو بدلیں۔وہ زمانہ گیا جب ایک غیر قوم ان پر حکمران تھی اور وہ محکوم سمجھے جاتے تھے ہیں تو اس زمانہ میں بھی اپنے آپ کو غلام نہیں سمجھتا تھا لیکن چونکہ ایک غیر قوم ہم پر حکمران تھی۔کبھی کبھی پیدا اور کیسی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہندوستان کو چھوڑیں اور کیسی اسلامی ملک میں جا کر رہنا شروع کر دیں۔لیکن اب اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا احسان ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم دور کسی اسلامی ملک مثلاً عرب یا حجاز میں جاتے اس نے ہمیں وہ ملک دیدیا جو عمل کرے نہ کرے کہلاتا خدا کا ہے ، کہلاتا محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ ہمارے لئے بہت خوشی کا مقام ہے کہ چاہے اس نے چھوٹی چیز دی مگر اپنی تو دی۔یہاں کوئی میری مانے یا نہ مانے ، سننے یا نہ کتے، جب میں یہ کہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہیں تو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے کیونکہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے نام پر ایک حکومت قائم ہوگی ہیں اس تصور سے میری خوشی کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔