قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 26
" دعاؤں سے رغبت اور دعاؤں کا الفاء اور رحمت الی کے آثار جوئیں نے اس سفر میں خصوصا مکہ معظمہ اور ایام رنج میں دیکھے وہ میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ ہے۔(ایضا) حضور نے حج کے دوران میدان عرفات میں بچار گھنٹے سے زیادہ دعائیں کیں۔ان بابرکت لمحات میں رحمت الہی کے آثار ایسے نظر آتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ تمام دعائیں قبول ہو رہی ہیں اور خود اللہ جل شانہ و عزاسمہ کی طرف سے ایسی دعائیں القاء ہوئیں جو اس سے پہلے آپ کے خیال تصور میں بھی نہ آئی تھیں۔دعاؤں کا فوری اور اعجازی اثر ان تفرعات اور گریہ وزاری نے خدائی تقدیر کے تاروں میں ایسی زیر دست جنبش پیدا کردی که حضور کو مکہ معظمہ کے قیام کے دوران ہی بندری رویا اسلام کے شاندار اور عالمگیر مستقبل کی نسبیت ایک نہایت خوش کن اور عظیم الشان نظارہ دکھا یا گیا جس میں میرے ذوق کے مطابق خدائی حکومت کے فیصلہ کی طرف اشارہ تھا کہ آسمان پر اس پاک زمین کی سنگ بنیاد رکھ دی گئی ہے جو آئندہ چل کر پوری دنیا میں محمد رسول اللہ صلعم کا قلعہ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز بنے والی ہے اور جس کے ذریعہ سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله کا پُر شوکت نعرہ