بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 37
41 کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب قرآن شریف بیان کر چکا " رشمہ معرفت ص (۵) خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرآ دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے۔خیمه معرفت ۳۲) اقدس کا نسخہ آگیا تھا۔اور شائع ہو گیا۔مگر چونکہ اس صورت میں اقدس ملحدین کے سالہ جات میں شائع ہوئی ہے۔عوام کو ان کی عداوت و شمنی کا حال معلوم ہے اسلئے ان کی روایت اور بیان مجھبول اور سہیم ثابت ہو گا لیکن اگر بہائی لوگ خود کتاب قدیس کو شائع کریں تو اس کا اور حکم ہوگایا پس بھائی لوگ قرآن کو منسوخ قرار دینے کے باوجود اپنی مرحوم شریعیت کی اشاعت کی توفیق نہیں پاسکے۔اور اگر کوئی سوچنے والا دل ہے تو وہ اس یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ باپ اور بہاء اللہ اپنی میں شریعت کو محمدی شریعت کے خلاف چلانا چاہتے تھے وہ آج تک دنیا میں عمل میں آنا تو کیا متعارف بھی نہیں ہو سکتی۔جب جناب فرج اللہ ذکی بھائی نے ش جید سے بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس بارے میں مشیت ایزدی کیا چاہتی ہے ؟ پھر میں جناب عبد البہاء افندی سے اقدس یعنی ہائی شریعت کے طبعی کرنی کی کیا یہ ایک نجیب واقعہ نہیں ہے کہ جونہی باہیوں اور بہائیوں نے ذرا سرگرمی اجازت چاہی تو انہوں نے جواب دیا ؟۔کتاب اقدس اگر طبع شو در نشر خواهد شده در دست ارا نیل متعصبین خواهد افتاد لهذا جائز نہ بلے بعنے از محدثین مثل میرزا مهدی بیگ از مترز از این بدست آوردند و نشر دادند ولی این در رسائل ملحدین مندرج چون بغض و عداوت شان مسلم و نزد عموم قول و روایت شای محمبول و مبهم است ولے اگر بہائیاں تشرد مند حکم دیگر دارد جواب نامی جمعیت لابادی قدر مطبوعہ مصر ) ترجمہ : کتاب اقدس اگر چھپ گئی تو پھیل جائے گی اورکھیئے حقیب لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائیگی۔اس لئے اس کا پھپو انا جائز نہیں بعض بے دین اور متزلزل لوگوں مثلاً میرزامحمدی بیگ کے ہاتھوں میں سے قرآنی شریعیت کے نسخ کے خیال کو پھیلانا چاہا خداوند تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما دیا۔اور آپ نے بڑے جلال سے یہ اعلان فرمایا کہ قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا اور اس کا کوئی شوشہ رہتی دنیا تک بدل نہیں سکتا۔بھائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ باب اور بہار اور عبد البہار کا لفظی و جی ہرقل اور ان کی ہر تقریری ال ای اور دی ہے جس طرح عیسائی لوگ حضرت سیح علیہ اسلام کو اب اللہ بنانے کی وجہ سے ان کے ہر قول کو کلام خدا ہیں۔اسی طرح بہائی لوگ اپنے اِن زعماء کے ہر قول اور ہر تحریر کو الہام اور وحی قرابہ دیتے ہیں۔بہائیوں کے نزدیک اب اس قسم کی وحی جو پہلے انبیاء پر آتی تھی منقطع ہو چکی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق