بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 114
۲۲۵ ۲۲۴ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔جناب بہاء اللہ نے حکم دیا ہے کہ جو سومثقال سونے کا مالک ہو وہ انسیس مشتقال آسمان وزمین کے گویا انہوں نے ان اموالی کو خاندانی جائیداد کے طور پر بنایا ہے۔زکوۃ ایک قومی نال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انسداد اپنے طور پر بھی نیک جذبات کے ہمت غرباء کی امداد کیا کرتے ہیں۔اسلام نے خالق خدا کو دے۔اس جگہ الله فاطر السموات والأرض سے مراد خود بہاء اللہ ہی ہے۔اس لئے اس حکم کا اسلامی شرعی داری سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں ایک دوسرے موقع پر بہاء اللہ نے لکھا ہے۔مد كتب عليكم تزكية الا توات وما دونها بالذكرة - هذا ما حكم به منزل الأيات في هذا الرق التنيح سوت نفصل لكم نصابها اذا شاء الله و اراد اقدس ) ترجمہ :۔تم پر غلوں اور باقی سب چیزوں کی زکوۃ فرض ہے یہ اس نے حکم دیا ہے جس نے اس مضبوط چڑے میں آیات نازل کی ہیں۔عنقریب اگر خدا نے چاہا اور ارادہ کیا تو ہم زکوۃ کا نصاب بالتفصیل ذکر کریں گے۔جناب بہاء اللہ کا انتقال ہو گیا مگر انہوں نے زکوۃ الاقوات وغیر ہے کے متعلق کوئی تفصیل بیان نہ کی۔اس جگہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جناب بہاء اللہ نے اوقاف میں تصرف کا حق اپنی زندگی میں صرف اپنے لئے مخصوص کیا ہے اور اپنے بعد اپنے بیٹوں کے لئے قرار دیا ہے۔اس کے بعد اسے بیت العدل کافی بتایا ہے۔(دیکھو اقدس ) مانگنے کو تو ناپسند کیا ہے۔لیکن اگر کوئی محتاج مانگ نے تو اس وجہ سے اس کو دنیا حرام قرار نہیں دیا۔بلکہ فرمایا ہے وفي أموالهم من السائل والتحدد مرد الذاریات، کہ مسلمانوں کے مانوں میں سائل اور نہ انگنے والے سب کا حق ہے۔مگر جناب بھلا اللہ نے جہاں اوقات پر اپنا اور اپنے خاندان کا تصرف جمایا ہے۔وہاں محتاج کو دنیا اس لئے حرام کر دیا ہے کہ اس نے مانگا کیوں تھا۔لکھا ہے۔ر من سيل حريم عليه العطاء : راقدس نت کہ جس سے کوئی حزیر است منہ مانگے اس پر دینا حرام ہے۔محتا جنابکی محرومی کا حکم دینے والا بداء الہ اپنے مریدوں کو یکم دیتا ہے کہ مردوں کو باور اور قیمتی کرایوں میں نیز ریشمی کپروں میں دفن کرو۔( اقدس ٢٤ و ٣٤ ) و ملك ان احکام پر یکجائی نظر ڈا نے سے بھائی شریعت کی خصوصی در کا پتہ لگ جاتا ہے۔(۱۸) اٹھارھویں خصو نقیبت بناء اللہ نے شراب کی حرمت کا