بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 3 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 3

عرض حال احاطہ میں پڑھے جائیں۔چنانچہ بندری تحریری اعلان میر املا نا گئی اور پورا پروگرام کر بھیج دیا گیا۔یہ پانچ مقالے ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ اگست کو پڑھے گئے اس میں احمدی احباب کے علاو مشتی اور دو سر مسلمان اصحاب نے بھی شرکت فرمائی مینوں کیلئے پورے امسال موسم گرما میں مجھے تین بجتے کے لئے کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔کونٹ میں کا انتظام تھا۔چند بھائی صاحبان بھی آتے ہے۔یہ مقالہ کے بعد نہیں سوال کا موقع دیا جاتا رہا اور اچھے بھول میں سلسلہ سوال و جواب جاری رہا اور مزین پر حق واضح ہو گیا بہائیوں بھائیوں کی ایک مختصر سی جمعیت ہے۔مگر یہ لوگ اپنے پروپیگنڈے ! وسوسہ اندازی میں بہت ہوشیار ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ بھائی صاحبان نے مشہور کر رکھا کی طرف سے بعض اوقات تین تین اصحاب کے بعد دیگرے سوالات کرتے رہے رہکے تفصیلی جراب ہے کہ کوئی عالم ہمارا جواب نہیں دے سکتا میں نے ارادہ کیا کہ ال عالی توفیق سے تو حاضرین کے گوش گزار کئے گئے ان پبلک اجتماعی کے علاوہ جناب شیخ کو اقبال منا تاج کی نظر اس عرصہ قیلم میں جاب کو بہائیت کے متعلق معقول واقعیت بہم پنچائی جائے۔سے بھائی سیکرٹری صاحب کو محدد اصحاب کی موجودگی میں جائے پر بھی بلایا گیا۔اس تقدیر اور بہائیوں کے تمام اعتراضات کا قلع قمع کیا جائے۔ان پر ا تمام محبت کی گئی۔انہوں نے پوچنے کا وعدہ کیا۔جن احباب جماعت کی معیت میں میں بھائی ہال اور بہائی لائبریری میں گیا اب یہ پانچ تولے طبع ہو کر آپکے سامنے پیش ہیں ان پانچ مقالات کے بعد ہم ایک ہم نے اس حال میں جو ایک غیر معمولی کرد ہے تین چار سرکردہ بہائیوں سے گفتگوکی اور ریکی اب یو م میر بھی شام کر دیا ہے جسمیں ان تمام رات قرآنیہ کی دعا کی گئی ہے جبیں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم بہائیت کے متعلق چند تحریری مقالے یہاں پڑھیں گئے بہائی بھائی صاحبان غلط طور پراپنے خیال کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔اس پیل سے جھوٹ اپنی نادات اور دوسرے جاب نہیں اور مقالہ ختم ہونے پر مناسب وقت سوال و جواب کے لئے میں بہت بڑھ گیا ہے۔وللہ الحمد۔رکھ لیا جائے اس طرح سے فریقین کے دلائل سامنے آجائیں گے اور اختراضات اد رہے کہ ہائی لوگ ا ا ا اس سے اپنی ریت کو کھلا رکھنے میں اینا ایک بائیں نے اسے چھپوا کر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا کیونکہ بہائی رقیم جناب عبد الہاد افندی نے جواب ہو جائیں گئے بھائی سیکر ٹری صاحب نے کہا کہ تحریری طور پر یہ تجویز آجائے تو ہم اپنی محفل ہیں۔کی اشاعت ممنوع قرار سے لکھی ہے۔ہم نے عراق سے انکی یہ کتاب حاصل کی اور 19ء پیش کر کے جواب دے سکیں گے۔چنانچہ ہماری جماعت کی طرف سے یہ تجویز کھکر میں اپنی کتاب بہائی تحریک پر تبصرہ میں اسے مون من شائع کر رہا جگر کے سی سی اردو بھیجی گئی مگر بھائیوں کی طرف سے انکار میں جواب آ گیا۔ریہ بھی چھاپ دیا یہ کتاب جلد ہی نایاب ہوگئی تھی اب تم منیر الفرقانی رہوہ سے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ بھائیوں کو عام دعوت دیکر یہ تقال احمدیہ مسجد کو کٹھ کے کتاب کو دوبارہ ہائی شرعی اوراس پر نیند کے عنوان کے تحت علمی شائع کر رہے ہیں