بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 77
(۵) ۱۵۰ کا سا بقدری اللہ تعالی نے آنے والے تمثیل موشی کو جس شریعت کے دیئے جانے کہ نبرد کیا ہے اُسے مکمل ، دائمی اور لازوال قرار دیا ہے۔قرار کا جس نے آیت انا ارسلنا اليكم رسُولاً شاهدًا علم كم كما ارسلنا الى فرعون رسُولاً میں صاف طور یا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور یں دنیا بھیجا ہے۔پھر فرماتا ہے:۔قال عَذَابِي أُمِيهُ بِهِ مَنْ رَشَاءُ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُ مَا الَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَالَّذِينَ هُمْ اتنا يؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَرِهُونَ الرَّسُول النبي الأم الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عن المنة تَكْرِ وَيُجِد لهم الدايت عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالأَعْلَلَ الَّتِي كَانَتْ دارم دا بحور الأول الذي أُنْزِلَ مَعَه، أوليك دم اقل ونه (الاعراف ( ۱۵-۱۵۸) کریہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔میں اپنے غذا کا موڈ جیسے چاہوں گا بناؤں گا اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔ہیں حمیت ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دوں گا جو تقوی شعار ہیں زکوۃ دیتے ہیں اور ہمارہ کا آیات پر ایمان رکھتے ہیں جو کہ اس عظیم الشان بنی اور امتی رسول اعظم کی پیروی کرتے ہیںمیں کا ذکر انہیں تورات و انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔وہ ان کو معررت کا حکم دیتا ہے اور منکر سے روکتا ہے اور ان کے لئے سب طیبات کو حلال ٹھہرتا ہے اور تمام خبیث چیزوں کوحرام قرار دیتا ہے۔ان کے بوجھبوں کو دور کرتا ہے اور ان کے دیرینہ بندھنوں کو کاٹنا ہے یعنی ان کے سامنے کامل شریعت پیش کرتا ہے۔پس جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی مدد ونصرت کرتے ہیں اور اس نورد شریعت پر ایمان لاتے ہیں۔جو اس کے ساتھہ اترا ہے دنیا کا میاب ہونے والے ہیں۔حضرات ! اقرآن مجید کے اعلان سے ظاہر ہے کہ وہ ان تمام پیشگوئیوں کا مصداق ہونے کا دعویدار ہے جو آنے والی کامل اور دائمی شریعت کے متعلق تورات و انجیل میں موجود تھیں وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو میل موسی ٹھہرا کر اپنے شریعت غراء اور دائمی قانون ہونے کا بھی) یان کرتا ہے۔مبارک سے جو ہر قسم کے بغض و کینہ سے صاف دل لے کر خداوند تعالیٰ کے کلام پر غور کریں۔تمیز حاضرین چونکا بھائی صاحبان یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ قرآن مجید