بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 65 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 65

۱۲ زمانہ ، یہ ایام اللہ کہلائے گا۔پس بہائیت کا ہر عمل اور ہر قول بہاء اللہ کو مدعی اولویت قرار دیتا ہے۔در بھائیوں کا تو باہمی سلام بھی بہاء اللہ کی الوہیت کا اعلان ہے۔باب نے سلام کے لئے چار لفظ مقرر کئے تھے۔عبد البہاء کہتے ہیں کہ ان الفاظ سے مقصود جمال قدم بہاء اللہ ہے۔مرزا حیدر علی اصفہانی نے بھی نتج المصد ورطہ میں یہی بات لکھی ہے۔لکھتے ہیں: تحیات در کتاب مستطاب بیان اللہ اکبر الله امیر والله اعظم ، و الله اجمل بود۔دویر ایتام اشراق مالک ایام وا نام حضر یہ اللہ البی شد، محبا لهذا الاسم المبارك المهيمن على العالمين و از حق منيع ہم تصدیق و امضا ئے فعلی ظاہر شد " کہ علی محمد باب کی کتاب البیان میں سلام کے چار کھلے مقرر تھے۔جو اللہ اکبر اللہ ایسی، اللہ العظم اور اللہ جمیل تھے لیکن بعد میں جب تمام مخلوق اور زمانہ کے مالک رہیاء اللہ نے اپنی روشنی اس عالم پر ڈالی تو سلام و جواب کے ان چاروں کلموں مجوزہ علی محمد باب میں سے صرف اللہ اسی پر حصر ہو گیا اور سلام میں اللہ انہی پر عصر کرنے کی نعلی تصدیق محمد بہار اللہ نے بھی کر دی تھی ؟ ۲۲۵ مکاتیب عبد البہاء جلد ۲۳ پر لکھا ہے : این چهار تحیت از حضرت اعلیٰ ، روحی له الفدا است و مقصد از بیر چهار جمال قدم روحی لاختبائه الفدا است نه دون حضرتش۔۔۔۔۔۔۔دلے الیوم بانگ ملا علی الله ایی است و روح این عید ازیں ندامت یعنی حضرت اعلیٰ و علی محمد باب نے جو یہ چار کھلے سلام کی شرض سے مقرر کئے ہیں ان چاروں کلموں سے مقصود صرف جمال قدم کی ذات ہے نہ کوئی اور وہی اللہ اکبر ہے، وہی اللہ اعظم ہے، وہی اللہ ایسی ہے ، وہی اللہ اجمل ہے۔اور اس وقت میں رہو بہاء اللہ کا وقت ہے، چونکہ ملا اصلی یعنی فرشتوں کی خاص جماعت کی جو آواز ہے وہ اللہ ابھی ہے اور میری روح بھی اس سے خوش ہے اسلئے سلام میں کہیں اسی کلمہ اللہ انہی" کو زیادہ تر جیح دیتا ہوں " امریکہ میں بھائی ہونے والے لڑکوں سے جو فارم بعیت پر کرایا جاتا ہے۔اس کا مشن یہ ہے :۔