بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 57 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 57

١١٠ اذا يراه احد في الظاهر يجناء على هيكل الانسان بین ایدی اهل الطغيان واذا تفكر في الباطن يراها مهيمنا على من في السماوات و الارضين" کہ جب کوئی اسکے ظاہر کو دیکھتا ہے تو اسے ظالموں کے کنائے انسانی میکل نظر آتی ہے مگر جب وہ باطن میں سوچتا ہے تو اسے وہ آسمانوں اور زمینوں کا کار ساز اور سیمین نظر آتا ہے۔راقتدار جنگلا بتایا جائے کہ کیا کبھی کسی انسان نے ان الفاظ سے زیادہ واضح الفاظ میں الوہیت کا دعوی کیا ہے ؟ (6) لوح ملک روس میں بہاد اللہ نے لکھا ہے :- قد اتى الاب والابن في الوادي المقدس" کہ باپ اور بیٹیا دونوں اس وادی مقدس میں آگئے ہیں۔ر متین ست ، گویا جن معنوں میں نصاری حضرت بیٹے کو ابن اللہ کہتے ہیں انہی معنوں میں بہاد اللہ کو باپ ہونے کا دھوئی ہے۔(۸) مجموعه اقدس میں بہاء اللہ کا قول ہے کہ :- قد كان المظلوم معكم يسمح وياي و هو السميع البصيرت مجموعه اقدس عشا ترجمہ : یہ مظلوم بہاء اللہ) تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہاری باتوں کو سنتا ہے اور تمہارے حالات کو دیکھتا ہے اور وہ سمیع و بصیر ہے۔(9) اپنے حاضر ناظر ہونے کا دخوشی کرتے ہوئے بہاء اللہ لکھتے ہیں:۔یا اهل الارض اذا غربت شمس جمالی و سيرت سماء هيكلى لا تضطر بواقوموا على تصرة امرى دارتفاع كلمتى بين العالمين انا معكم في كل الاحوال وتنصركم AC-AY بالحق انا كنا قادرين را قرین مشته ترجمہ : اے اہل زمین ! جب میرے جمال کا سورج غروب ہو جائے اور جب میری مہنگی کا آسمان چھپ جائے تو تم مضطرب نہ ہوتا بلکہ میرے امر کے پھیلائے اور اس کی تائید کیلئے کمربستہ کھڑے ہو جاتا۔ہم ہر حال میں تمہارے ہوں گے اور تمہاری نصرت کریں گے۔ہم قادر ہیں۔(1) جناب عبد البهاء بہاء اللہ کے حاضر ناظر جینے کے دھونی کی تائید کرتے ہیں چنا نچہ بدائع الآثار عید ملک کا بھی لکھا ہے کہ جناب عبد الہداء نے کیا کہ : جمال مبارک پیش تر تیج در کتاب دنده فرمودند و نواکم من افقی الا بھی ونتصر من قام على نصرة امرى