بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 47
91 بلکہ بہار اللہ کی عام تعلیمات اور نصایح کا بیان ہونا چاہیئے " انہیں بلا چون مرجب مسلم ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مسلک تقیہ کے ماتخت ان عقائد کے اظہار کو نا پسند کریں۔لیکن ہمارا یقین ہے کہ وہ ظاہر ہے کہ ان ہدایات کی موجودگی میں اہل بہار شتی وا مکان اپنے عقائد کو چھپائیں گے اور عامتہ الناس میں انہیں غلط میں پیش کریں گے۔بلکہ الیسا ان کی صحت کا انکار نہیں کر سکتے۔اس لئے بھر اظہار حقیقت کے فرض کو کرنے کو تعمیل حکم کی وجہ سے ثواب سمجھیں گے۔اور یہ امر واضح ہے کہ ان عقائد مکتومہ میں سے جناب بہاء اللہ کے اصل دعوئی کا عقیدہ سر فہرست ہو گا۔میں پُر زور الفاظ میں کہتا ہوئی کہ بہائیوں کے اس رویہ کا ہی نتیجہ ہے کہ بڑے بڑے غیر بھائی عالم آج تک اس مغالطہ میں مبتلا ہیں کہ جناب بہاء اللہ نے نبوت ورسالت کا دعوی کیا ہے اور وہ اسی طرح ملی وحی و المسام ہیں جس طرح دیگر انبیاء ہوتے تھے آپ حیران ہوے کہ جماعت احمدیہ کے محقق علماء کو دیگر اہل علم کی اس غلط فہمی کے ازالہ کیلئے بہت جد وجہد کرنی پڑی ہے اور منو زبہت سے لوگ اس طلسم بامری کا شکار نظر آتے ہیں۔حضرات ! آئیے اس تمہید کے بعد اور اس مشکل کے ذکر کے بعد ہم آپ کے سامنے پانی بہائیت جناب بہارا اللہ کے وقوفی کی حقیقت پیش کریں ہم آج بھی یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس ذیل میں بھائیوں پر محبت ہے طور پر صرف برائیوں کی مسلمہ کتابوں اور ان کے مسلمہ عقائد کو ہی پیش کیا ہے اور ہم خوشی ہونگے کہ اگر بہائی ان حوالہ جات میں سے جو ہم ان کی کتابوں سے پیش کر رہے ہیں کسی حوالہ کو اپنا غیر مسلم یا غلط قرار دیں ہم نےظاہر کام کیا ہے کہ بہائی صاحبان کی طرف وہی عقائد اور وہی باتیں منسوب کی جائیں جو ادا کرتے ہوئے ان کے ان عقائد و مسائلی کو پیش کرنے میں معذور ہیں۔جناب بہاء الله در نومبر ۱۹۱۶ء کو ایران کے دارالسلطنت طہران میں پیدا ہوئے تھے۔بہائیوں کا بیان ہے کہ :- آپ کے والد ماجد کا نام میر نا عباس نرمی تھا جو گو نشست طہران کے ایک وزیر تھے۔آپ کا خاندان بہت دولتی از آپکے متعد د رشتہ دار حکومت کے مختلف میشہ ہائے سول اور ملڑی میں معزز شہروں پر ممتاز تھے رعد تجدید اردو من آپ کی پائیں برس کی عمر میں آپ کے والد کا انتقال ہوا ایک کان میں ستائیس برس کی عمر میں جناب بہاء اللہ نے جناب علی محمد باب کے دوئی بابیت پر ان کو مان لیا اور باتی بن گئے۔باپ کی زندگی میں بھی اور ان کے قتل کئے جانے کے بعد بھی جناب بہاء اللہ کو باہیوں میں ضائی نظامت حامل تھی۔بہائی تاریخ کہتی ہے کہ باب کے قتل کے گیارہ بارہ سال بعد آپ نے پہلے تو بغداد میں اپنے چیدہ احباب کو اپنے خونی کی خوش خبری" شنائی اور پھر کچھ عرصہ بعد ایڈریا نوپل میں عام طور سے اپنے ظہور کا اعلان فرمایا جسے بانیوں کی کثیر جماعت نے قبول کیا اور بھائی کہنے لگے