بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 4
ان پانچ مقالات کی وجہ اس کتاب میں بند را امان اتار کر دیاگیاہے تاہم بائی پہلا مقالہ شرارت اور اس پر تبصرہ کا مطالعہ میں پائی تحریک سمجھنے کے لئے از بس لازمی ہے۔یہ ایک تحقیقی اور ٹھوس کتا ہے، اسکے پڑھنے سے آپ پر کھل جائیگا کہ ہائی لوگ اپنی مرحومہ شریعت کو کیوں تھیائے پھرتے ہیں، اس استفاد کا رانہ کیا ہے ؟ میں اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرونگا اگر اسی جگہ جماعت احمدیہ کورٹ کا موٹا بالاخر بسم الله الرحمن الرحيم بانی اور تہائی تحریک کی تاریخ رانی مکارم شی ایرانی به احب اراده موی تیم بین صاحب محرم بیا بشیر حموات معزز حاضرین ! بابی اور بہائی تحریک کی تاریخ کے سلسلہ میں سب سے ای خانصاحب اور اے خاصی حاجی فیض الحق خان صاحب اور جناب شیخ کریم بھی صاحب کے تعاون خلوص اور اسی محبت کا شکر ہے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بانی تحریک علیحدہ ہے اور بہائی تحریک علیحدہ و لاوان و یاری اور تمام کاری کار رانی کی کمی دل سے تمام اجاب کا فرود با بیہ کے بانی سید علی محمد صاحب باب ہیں اور بہائی تحریک کے بانی کر گزار ہوں اور کے لئے دل سے دو گو میں جزاهم الله احسن الجزاء مرزا حسین علی صاحب نوری ہیں۔باہیوں اور بہائیوں کے عقائد اور اصول ار رائے وکیل سے دردمندانہ التجا ہے کہ وہ ان صفحات میں برکت ڈالے پیش کرنے سے پیشتان کی تاریخ کا جانا ضروری ہے کسی شخص یا کی تو یک اوران مقالات کو منوں کی ہدایت کا موجب بنائے اور اپنے فضل سے اسلام کے کی تاریخ سے اس شخص یا اس تحریک کے بہت سے عقائد اور مبادی کا صحیح نقش زندہ اور ندہ اور کامل مذہب ہونے قرآن کریم کے زندہ اور کان کتاب ہونے ، اور سید معلوم ہو جاتا ہے۔آپ کسی تحریک پر صحیح طور پر تبصرہ نہیں کرسکتے جتنا آپکو الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفے سے اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے زندہ اور اس کی سرگزشت معلوم نہ ہو۔اور آپ کسی شخص کے خیالات کا حقیقی جائزہ نہیں کامل رسول ہونے کو تمام انسانوں پر پوری طرح واضح فرمائے۔ساری دنیا لے سکتے جب تک اس شخص کے اعمال اور افعال آپ کے سامنے نہ ہوں پس اس شجرہ علیہ کے انبار شیریں سے لذت اندوز ہو اور سب اس چشمه آب حیات در حقیقت عقائد خیالات اور اصول کا جائزہ لینے کے لئے بھی تاریخ کا بانت سے پیر این ہوں۔اللهم أمين يارب العلمين لازمی ہے۔علاوہ ازیں کسی شخص یا فرقہ کی تاریخ کا علم في حد ذاتہ ایک تنقل ریوه - پاکستان اکتوبر 1900ء خاکسار ہو علم ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔البو العطاء جالندھری بابی اور بہائی تحریک مذہب کے نام پر قائم ہوئی ہے اور ظاہر ہے