بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 19
بھی نہایت پسند کی یہ رباب الحياة ترجمہ مقالہ سیاح میشه باپ نے اسے صبح ازل کا لقب دیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے :- وقد سماه حضرة الباب بهذا اللقب گویا بہائیوں کے نزدیک صبح ازل باب کا اصل جانشین نہ تھا بلکہ اسے بہا اللہ کے لئے بطور پر دہ استعمال کیا گیا تھا۔ازل مینی مرزا کمیٹی کے پیر بھائیوں کو ر صبح ازل الحكمة ما والبهائية مشا اور اس نے چاہا کہ عام یا یوں وغیرہم کی نگاہیں ہی ان پر مرکوز ہوجائیں۔اس بیان میں غلط کار قراردیتے ہیں۔طرفین نے ایک دوسرے کو قبال وغیرہ اس بارے میں یہ تجویز کی کہ : کے خطرناک القلب سے موسوم کہ رکھا ہے۔مگر اس جگہ بطور را یک مورخ کے ثم امر بعض الاصحاب بان يشهر را اسمه بين عامة ہم اس قسم کے امور کی طرف صرف اشارہ ہی کر سکتے ہیں۔تاریخی طور پر ثابت الصحب لتتحول الانظار نوعا اليه والكواكب منه ہے کہ یہ کیم بعد میں سانپ کے مد میں چھپکلی کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔بعض اصحاب کو حکم دیا کہ عام باہیوں میں مرزا یحی کا نام مشہور باپ کے قتل کے بعد بہاء اللہ بھی قید کئے گئے۔قید خانہ تاریک ونگ تھا۔چنانچہ بہاء اللہ کہتے ہیں: کردین تا ایک حد تک اس کی طرف نظریں متوجہ ہو جائیں۔وہ قید خانہ جو اس مظلوم اور دوسرے مظلوموں کی جنگ تھی۔فی الحقیقت ایک تنگ و تار یک مردہ خانہ بھی اس سے اچھا ہوتا بھائی مورخ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ مشہور ہوا کہ :- کوئی ایسی تدبیر کرنی چاہیئے کہ سب کی توجہ حضرت بہاء اللہ کی طرف سے ہٹ کر کسی غائب شخص کی طرف ہو جائے۔اور اس تدبیر ہے یہ لوح ابن ذئب مت) ہے بہاما اللہ لوگوں کی مزاحمت اور ایذاء محفوظ رہیں لیکن اسی قید خانہ میں سوچتے سوچتے بہاء اللہ نے بانیوں کی تعلیم و تربیت کیلئے چونکہ اس امر کے لئے کسی اجنبی آدمی کو منتخب کرنا حلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔لکھا ہے:۔مصلحت تھا اسلئے بہاد اللہ کے بھائی مرزا کینی کو اس کام کیلئے اس قید خانہ میں دن رات ہم بابچوں کے اعمال و احوال کو منتخب کیا۔غرضیکہ بہاء اللہ کی تاثیر اور ہدایت سے اس کو سوچتے تھے کہ اس قدر مہندی و برتری اور فہم و ادراک رکھتے قبل آل مشہور کیا اور اپنوں اور بیگانوں میں اس کو شہرت دی ہوئے ان سے ایسا کام ظاہر ہوا۔یعنی ذات شاہانہ پر جو اسی سے اور اسی کی طرف سے چند خطوط حضرت نا کے نام لکھے۔چونکہ در پردہ حملہ کرنا۔پھر اس مظلوم نے ارادہ کر لیا۔کہ قید خانہ سے نکل کر پہلے اس امر کاز کو حضرت یا پہنے ہو چکا تھا اس لئے یہ وائے انہوں نے پوری ہمیں کے ساتھ ان لوگوں کو تہذیب و شائستگی