بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 18
۳۳ ۳۲ فوزا عظيما لهم وشرعوا في المقاتلة والنزال وخرجوا على الدولة والملة (الكواكب من ) باب نے رمضان شاہ ہجری میں اپنی زندگی کو خطرہ میں پا کر فراحسین علی الملقب بماء اللہ کے سوتیلے بھائی مرزا یکی صبح ازل کے بارے میں وصیت مقالہ سیاح کا مصنفت پاہیوں کا دفاع کرتا ہوا لکھتا ہے۔کردی تھی۔وصیت یہ تھی :- کیونکہ اس مذہب کی بنیاد پڑتے ہی حضرت ہاس تیل کے دیئے گئے تھے اس لئے یہ گروہ اپنی روش و رفتارها در شریعت و طریقت کے احکام سے محض بے خبری ہے۔ان کے عقائد کی بنیاد صرف حضرت الله اكبر تكبيرًا كبيرًا هذا كتابد من عند الله المهين القيوم الى الله المهيمن القيوم قل كل من عند الله باب کی بھی محبت تھی اور یہی بے خبری بعض مقاموں میں کر بابری کا میدوون قل كل الى الله يعودون هذا كتاب سبیت ہوئی۔اور جب ان لوگوں نے اپنے اوپر سخت دباؤ پڑتا دیکھا۔من على قبل جليل ذكر الله للعالمين الى تو اپنے بچاؤ کے لیئے جھوٹے ا ہاتھ اٹھایات (مقالہ سیاسی اردو عدد من يعدل اسمد اسم الوحيد ذكر الله للعالمين باہیوں کی باغیانہ حرکت سے ان کے مشاہیر گرفتار کر لئے گئے جن میں میاء اللہ قل كل من نقطة البيان ليبدون ان يا اسم بھی تھے جن کو روسی اور انگریزی سفیر نے چھڑوایا۔چنانچہ لکھا ہے۔اس باغیانہ حرکت کے ارتکاب سے یہ فرقہ بدنام ہو گیا۔ابتداء میں کچھ پوچھ چھے ہی نہیں تھی مگر اس کے بعد حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع ہوئی اور اس فرقہ کے تمام مثلا بغیر تہمت کے جال میں پھنس گئے : (مقالہ سیاح (۲۵) اسی زمانہ میں مرنا حسین علی بہاء اللہ بھی قید کئے گئے۔اور الوحيد فاحفظ ما نزل في البيان وأمر به فانك لصواط حق عظيم (مقدم نقطة الكاف م) ترجمہ : اللہ سے بڑا ہے۔یہ خط خدائے ضمن وقیوم کی طرف سے خدائے سیمین دقیقوم کی طرف لکھا گیا ہے۔کہا ہے کہ سید اللہ سے شروع ہوتے ہیں۔اور اللہ کی طرف لوٹتے ہیں یہ خط محمد علی کی طرف سے جو ذکر العالمین ہے یعنی کی طرف صرف ایک ضلع میں ان کے چار سو تقصیر منبسط ہوئے اور اگر انگریزی - جو ذکر للعالمین ہے۔کہا ہے کہ سب نقطہ بیان سے شروع ہوتے اور روسی سفیر سفارش نہ کرتے تو شاید دنیا کی تاریخ ایک عظیم الشان ہے ہیں۔اسے یحیی البیان میں نازل شدہ کی حفاظت کے اور اسکے شخص کی زندگی کے حالات سے خالی رہ جاتی " ربعاء اللہ کی تعلیمی مطبوعہ کا مطابق حکم دے تو بیچا اور عظیم صراط ہے یہ