بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 17 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 17

۳۱ بما ان حضرة السيد الباب ادعی مقام المهدوية وعمل تغيرات عظيمة في الفروع الإسلامية لذلك وجب ولزم قتلة : والكراكب ) آخر کار باب اللہ کے درمیان آذربائیجان کے دارالخلافہ میں قتل کئے گئے :- ۱۸۵۰ وہ اور تشنہ کے درمیان آذربائیجان کے دارالخلافہ کہ چونکہ باپ نے مہدویت کا دعوی کیا ہے اور اسلامی شریعت ہیں میں شہید ہوئے۔رہاء اللہ کی تعلیمات منال ) بہت تبدیلی کی ہے اس لئے اس کا قتل واجب ہے " بھائی مورخ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک بابی نے سازش کر کے شاہ ایران پر گولی اس کی صلہ سے باب بہت فکرمند ہوئے۔چنانچہ لکھا ہے :۔چلائی جس سے بانیوں کا ایران میں قتل عام ہوا :- كان حضرته متغير الحال على خلاف المعتاد حضرت باب شہید کئے گئے اور ان کے ایک خادم نے کچھ دیں غائماً في بحر عميق من الافكارية (الكواكب مل ۴۳) سے سازش کر کے بادشاہ پر گولی چلائی اور اس کے بعد یا ہوں کہ اس شب اس کی حالت غیر معمولی طور پر بدلی ہوئی تھی۔کا تمام ایران میں قتل عام جوا " (بہاء اللہ کی تعلیمات مث) وه تفکرات کے عمیق سمندر میں غرق تھا۔اس سلسلہ میں عصر جدید میں لکھا ہے :- اگست منشاء میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے باہیوں پر اس موقع پر ان کی زبان پر یہ شعر تھا ہے الى المديان يوم الدين تمضى ، وعند الله تجتمع الخصوص بلاؤں کا ایک ایسا طوفان برپا کیا کہ ہر ایک بابی کی جان خطرے انہوں نے اپنے مریدوں سے خواہش کی کہ کوئی مجھے سب سے پہلے ہی قتل کر دے۔میں پڑگئی۔صادق نامی ایک نوجوان جو خود بھی بابی تھا اور حسن کا آقا بھی بابی تھا۔اپنے آقا کے عذاب شہادت کو دیکھے کہ ایسا تاثر ہی چنانچہ الکواکب میں لکھا ہے :- فيا حبذا لو وجد من يقتلني هذه الليلة ہوا کہ بدلے کے جوش میں بھر کر اس نے شاہ ایران پر حملہ کر دیا ہے في هذا السجن والكواكب منم) ر عصر جدید اردو صدا نیز انہوں نے اپنے مریدوں کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا :- پھر شاہ ایران محمد شاہ فوت ہو گئے تو بابیوں نے عام مقابلہ شروع اے اصحاب ! فردا که از شما سوال نمائیندا نہ حقیقت میں تقسیم کر دیا جس میں طرفین کا کافی کشت و خون ہوا :- نمائید ولعن کنید زیرا که حکم الله بر شما این است یا نقطه اللافت ان البابيين احتسبوا وفاة المغفور له محمد شاه