بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 16 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 16

۲۹ ۲۴ سب حاضرین حیران ہو گئے کہ شریعیت کسی طرح منسوٹ ہو گئی تعتمد عليه وتركن اليه في يث اسرارها و مكنونات اور یہ عورت کس طرح ننگے منہ اور ہے پر دہ باہر آگئی ہے یہ اطلاعاتها ولم يتحاش مؤرخو البابية ذكر هذه بدست کا نفری کی کارروائیوں کا اجمالی نقشہ پر تھیسر براؤن کی الرحلة الاتفاديا عن وهم المواهمين وقطعا شائع کردہ تاریخ میں یوں درج ہے: لدابر اقوال المغترين وأفكارهم السابعة در صحرا کے خوش قضائے بدشت جمعے ہے خود وگرو ہے المنحطة " (الكواكب منا ومنا) با خود و طائفه تحیر و قوت مجنون و فرقه فراری شدند ترکیه ا جیب پر ثابت ہو گیا کہ قرۃ العین سے بچے برا مان گئی رفنقطة الكاف نكا ہے تو یہ ضروری ہے کہ یہ سفر قد دس او ملا بلکہ فروشوں کی معیت میں کہتے ہیں کہ قرۃ العین کو طاہر کا لقب اسی موقع پر دیا گیا تھا لکھا ہے۔بڑا ہو کیونکہ وہی اکیلا شخص تھا جس پر قرۃ العین کو جو تھا تھا لکھا واتا لقب طاہرہ اول در بهداشت واقع گشت و حضرت اور جیسے وہ اطمینان سے اپنے راز اور پوشیدہ بھید تیلا یا کرتی تھی اعلی این لقب را تصویب و تصدیق نمودند و در انواع مرقوم دو سر با بی مورخوں نے اسی سفر کا ذکر محض کی ڈو کی خاطر نہیں کیا۔تا کہ وہم کرنے والوں کا دہم اور مفتر یہیں کے اقوال کا ازالہ ہو گشت تحفہ طاہرہ عہ) کہ قرة العین کے طاہرہ دیا کہ امن کا لقب پہلی مرتبہ بدشت جائے اور ان کے بانی اور ناکارہ خیالات رک جائیں۔کے صحرا میں ہی کلا تھا۔بعد ازاں پا سب نے اسکی تصدیق کردی قرۃ العین بابت کی تبلیغ میں سرگرم تھیں۔باپ کے قتل کئے جانیکے بعد اور الواج میں استعمال ہونے لگ گیا ہے۔قرہ العین نے بھی حکومت کے خلاف ایک کوشش کی تھی کر کے تیار ہوئیں اور بہائی تاریخ سے ثابت ہے کہ قرۃ العین کا زیادہ تعلق ایک مخلص بابی حاجی بھائی روایت کے مطابق باپ کے دو سال بعد ا نہیں گلا گھونٹ کہ جا کہ محمد علی یار فروشی فرومی کے ساتھ تھا۔انکو ا کتب میں لکھا ہے کر دیا گیا۔(تذکرۃ الوفاء منس) واذا ثبت أن السيدة ساخرت حقيقة إلى اب ہم پھر باپ کے معاملہ کی طرف خود کرتے ہیں۔حکومت یا ہیوں کی خراسان فلابد وان يكون ذلك مع حضرة القدوس مسلمان سرگرمیوں سے تنگ تھی۔ادھر علماء نے باب کو واجب القتل فاته الوحيد الفريد الذى كانت تلك الترهواء قرار دیدیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ باب کے قتل کئے جانے کا فیصلہ ہوا۔