بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 14
۲۵ ۲۴ ہیں : (۳) باستثنائی عده بسیار تحلیل هیچ کدام آنها باب را نشناخته بود۔باہیوں نے دو اہم فیصلے کئے۔(1) قرآنی شریعت کو منسوخ کر دیا جائے و فقط چند نفر آن با تعالیم پاپ را ادراک کرده بود۔این نفوس (۲) باب کو رہا کرانے کے لئے مختلف دیہات و قصبات سے بابی مسلح بواسطه آن حرارته فطری که عامه خلق را به پیروی منجی دلالت گروہوں کی شکل میں قلعہ کو پہنچیں۔قریشی حشمت اللہ صاحب بھائی لکھتے میکند مجذوب باب شده بودند - باین عقیده که امر ضروری برائے ہم این بود که در تخت نوار او در آیند و از برائے اد خون خود را انتشار نمایند تا آنکه عالمی تجدید شود و جمیع بلایا فوری رفع شود یعقیده او را نمی دانستند سینے انزال ہا گمان میکردند که آنچه قبل از ظهور باب احرام بود اینک سال شده است زیرا باب دیانت محمد علیه السلام را تجدید نموده بودید و تاریخ اور نہتائی من) اس مصیبت کے وقت میں جو کہ سر یہ آوردہ تھے انہوں نے مشورہ کر کے ایک عام مجلس شور می منعقد کی تا کہ کوئی فیصہ کریں۔اور اس موقع پر ایک با بی مرزا حسین علی نوری جنگو حضرت باپ نے بہاء اللہ کا لقب دیا تھا خاص طور پر کا میده ثابت ہوتے اور اُن کی اور قرة العین کی کوششوں سے یہ قریب قریب فیصلہ ہو گیا کہ نئے اصولوں پر چلا جائے لکھا ہے: ان حالات میں حکومت ایران نے مناسب سمجھا کہ باب کو نظر بند کر دیا ہے ہے لیکن بعض پرانی رائے پر مجھے رہے۔رہیاء اللہ کی تعلیمات قلم تا اس کی تعلیمات اور اس کے پیروؤں کی حرکات سے ملکی امن خطرہ دوسری قرار داد کی تعمیل بھی شروع ہو گئی۔مرزا عبدالحسین بہائی مورخ نے ہوگئی۔میں نہ پڑ جائے چنانچہ قلعہ ماکو میں انا کو نظر بند کر دیا گیا۔معرا ز حاضرین ! آپ سن چکے ہیں کہ باب کی تعلیم خونریزی کے لئے مارا گارهم يحملون السلاح ونیسا فروتن کھلی دعوت تھی اور دوسری طرف باپ کے پیرو بہت جلد مشتعل ہو جانیوالی الجامعات لا يقل عددها عن عشرين نفسا گردہ تھا اور تیسری طرف ان کا امام مہدی کا دعوی علما شیعہ کے نزدیک (الكوالكتب (۲۲۵) ان کی تکفیر کے لئے کافی تھا۔حکومت نے جب باب کو نظر بند کیا۔تو تیں ان میں سے اکثر کہتھیار بند ہوتے تھے اور میں یا اس سے یابیوں پر ایک جنون کی سی کیفیت طاری ہو گئی انہوی نے علاقہ خراسان ریدہ افراد کی صورت میں سفر کرتے تھے۔میں بہشت کے مقام پرست کہ ہجری کو ایک کانفرنس کی۔اس موقع پر ماہر ہے ہو اس طرح بھنے والی مسلم جماعتوں اور خوام کا تصادم ناگزیر تھا۔