بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 126
۲۴۹ کہ اللہ تعالی ان کے کاموں کو خوب جاننے والا ہے ، ہر است کے نئے رسول ہوتا ہے جب بھی ان کا سول آیا تو ان لوگوں کے در میان از روس نے اعصات فیصلہ کر دیا گیا اور ان پر ظلم نہ کیا گیا۔یہ منکرین کہتے ہیں کہ پھر یہ وعدہ ہمارے متعلق کب پورا ہو گا اگر تم بچتے ہو۔کہدے کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی مرد یا نفع کا مالک نہیں ہوں بجز اس کے کہ جو اللہ تعالئے چاہیے۔ہر انت کی ہلاکت کے لئے ایک مقررہ مدت ہے۔جب وہ وقت آجاتا ہے تو وہ لوگ ایک پل بخبر بھی اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہو سکتے" ان آیات سے ظاہر ہے کہ (الف) لكل الة اجل کا تعلق مکذبین انبیاء کے ساتھ ہے (بک) اس جگہ اس عام قاعدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکر تین سے متعلق قرار دیا گیا ہے یعنی ان کی ہلاکت کی گھڑی آن میجی ہے۔کیونکہ ان کے بد اعمال انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔اور آیت قرآنی وَمَا كُنَّا مُعد مدن حتى نبعت رسولا کے مطابق آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں۔کفار نے آپ کی تکذیب کر دی ہے۔اسلئے اب ان کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے؟ ان آباد میں) اس مفہوم کی تصریح موجو د ہے۔حتی کہ کفار نے بھی انھیں اپنی تباہی کی شیر پر مشتمل سمجھ کر کہ دیا تھا مَتى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صدقین۔پس ثابت ہے کہ آیت وَلِكُلِّ أُمَّة اجرك میں مکذبین انبیاء بالخصوص مکذبین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلاکت کا ذکر ہے اس کا قرآن مجید سے منسوخ قرار دیئے جانے سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے۔(۳) اگر بہائی استدلال کو تسلیم کر لیا جائے کہ مسلمانوں کی ایک مدت مقرر ہے یعنی جب کسی وقت کے مسلمان عملاً قرآن مجید سے مغرف ہو جائیں گے تو اللہ تعالے اور قوم کھڑی کر دیگا تب بھی یہ سوال پیدا ہو گا۔کہ آیا آنے والی وہ قوم قرآن مجید کو ماننے والی اور اس پر عمل پیرا ہو گی یا اسے کتاب مہجور قرار دینے والی ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کے لئے در سول قرار دیا ہے۔فرمایا :- قبل ياَيُّهَا النَّاسُ انّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (اعراف: ۱۵۸) اور پھر قرآن مجید نے خبر دی ہے۔شلة من الأولِينَ وَثُلَة مِّنَ الأخرين والواقع لا انت محمدیہ کے دو بڑے خاص حصے ہیں (ا) اولین کی جماعت رہو، آخرین کی تیماعت۔پھر سورہ جمعہ کے لے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث مقررہ فرمائے ہیں۔ایک الامین میں اور دوسرا آخرین منہم ہیں۔اسلئے اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کسی وقت مسلمانوں کی حالت خراب ہو جائیگی۔اور وہ قرآنی شریعت پر عمل ترک کر دیں گے تو قرآنی آیات اور احادیث