بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 116 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 116

۲۲۹ ۲۲۸ (4) اخوات۔اے معلمین۔ان میں سے ہر قسم کے لئے دعا المقت یعنی ۵۲۰ میں سے ۶۰، ۶۰ دیئے جائیں گے۔بہارہ اللہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہم نے اولاد کا باپوں کی میٹھیوں میں ہی شور سن لیا ہے اسلئے ہم نے ان کا حصہ بڑھا کہ دو سپند کر دیا ہے راقدس نشہ۔گویا اولاد کے لئے پہلے ۵۴۰ میں سے ۶۰ مقرر تھے اب ۱۲۰ اور دیئے جائیں گے یعنی چھ اقسام کو ساتھ ساتھ گئے حساب سے ۳۶۰ ملیں گے اور ۵۴۰ میں سے باقی ۱۸۰ سارے کے سارے اولاد کو دیئے جناب ابو الفضل بھائی نے تقسیم میراث بہائی کی گتھی کو ان الفاظ میں سلجھانے کی کوشش کی ہے۔لکھتے ہیں :- ما تقسیم ارث را اقل عدد سے که جامع کسور تسعه برجه صحیح است یعنی عدد (۲۵۲۰) مقرر کرده و طبقات میم وراث را که عبارتند از دریات و ازواج و آباد واقعات د اخوان داخوات ومعلمين الاقرب فالا قرب مترتب و فریضه بر طبقه ای از طبقات مذکوره را بعد د (۲۰) على القسادی متنازل داشته است : (برمان لامع ) آپ ابھی پڑھ چکے ہیں کہ بہاء اللہ نے سات قسم کے ورثاء تجویز کئے نے صرف ذریت کے شور کو بے بہا باشد حیرت ہے کہ اس حسابی رقم کو پورا کرنے کے۔ہے۔بیویوں، ماؤں اور بہنوں ہیں لیکن یا درکھنا چاہیئے کہ ان درثاء کو حصہ نقد یا زرعی زمینوں کے شور کو بالکل نہیں سنا۔بہاء اللہ نے ورثاء میں تعلمین کا نام کی صورت میں ملے گا۔اگر متوفی کا ترکہ صرف اس کی پچاس ساٹھ ہزار رکھ کر بھی اپنی جدت پسند طبیعت کا ثبوت دیا ہے مگر یہ نہیں روپیہ کی کو بھٹی اور کپڑے ہی ہوں تو ماں باپ بیوی ، بھائیوں، بہنوں بتا یا کہ کونسے معلم وارث ہوں گے اور کوٹنے نہیں۔کیونکہ موجودہ اور معلموں کو کچھ نہ ملے گا بلکہ متوفی کی لڑکیوں کو بھی محروم کر دیا جائیگا۔طریقہ تعلیم میں تو سینکڑوں استاد ہو بھاتے ہیں اور یہ بھی نہیں ایسی صورت میں بہائی شریعت کا یہ حکم ہے کہ رہائشی مکانات بتایا کہ کسی زبانہ تک کے معلم ہوں گے۔کیونکہ در حقیقت انسان اور کپڑے صرف لڑکوں کو ملیں گے۔متوفی کی لڑکیوں کو بھی ساری عمر یا سیکھتا رہتا ہے۔پھر یہ بھی ذکر نہیں کہ علم سے کچھ نہ ملے گا۔راقدس 22 ) اس حکم کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عورت کبھی بھی راد ہائی کتابیں پڑھانے والے ہیں یا ہر علم کا معلم مراد ہے۔اور خواہ اُسے بیٹی کی حیثیت سے دیکھا جائے یا بیوی یا ماں کی مشیہ سے صنعت و حرفت سکھانے والے بھی ان میں شامل ہیں یا نہیں۔برمن دیکھا جائے۔اپنے باپ یا خاوند یا بیٹے کے مکانات کی دارش نہیں بن سکتی۔رہائشی مکانات خواہ کتنے ہوں عورت پر حال ان سے محروم یہ گھر بھی نہا میں مہم ہے۔