بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 115
۲۲۷ ۲۲۶ ذکر نہیں کیا۔سور کی حرمت کی تصریح نہیں کی۔لیکن دو جگہ لکھا ہے کہ شہر والوں کے لئے ایسی شقال خالص سونا اور دیہات والوں کے انیون کا پینا حرام ہے۔(اقدس ۳۳۳ و ۲ نہایت اہم امور کے متعلق خاموشی اختیار کر کے ادنی سی بات مثلاً یہ کہ منبر پر چڑھ کر آیات نہ پڑھا کرو بلکہ چار پائی وغیرہ پر کرسی رکھ کر پڑھا کرو۔ر ۳۳ ) کا ذکر کرنا بہائی شریعیت کی خصوصیت ہے۔ہاتھی کو نگل جانا اور مچھر کو چھاننا اسی کا نام ہے۔بہاء اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہر بھائی کا (۱۹) انیسویں خصوصیت انت من ہے کہ اپنے مکان کو طوب آراستہ و پیراستہ کرے۔(ہ) اور پھر دوسرا حکم یہ ہے۔کہ انیس سال پورے ہو جانے پر گھر کا سب سامان تبدیل کرے۔(۳۲) کیا بہائی اس پر غسل کرتے ہیں یا کریں گے ؟ بہاء اللہ نے اس جگہ یہ نہیں بتایا کہ پرانے سامان کو کیا کیا جائے۔ہاں انہوں نے یہ محسوس کیا تھا کہ غالبا بھائی بھی اس کو معقول حکم قرار نہ دیں گے۔اس لئے بھٹ کہ دیا کہ اگر کوئی اپنا سامان تبدیل نہ کر سکے تو لئے ایشن مشتقال خالص چاندی مقرر ہے۔اگر کوئی زیادہ کرنا چاہے تو پچانو سے مثقال سے زیادہ نہیں کر سکتا۔(اقدس ۱۳۵) شہر اور دیہات کی تقسیم غیر معقول ہے۔نیز یہ طریق باہمی اتحاد واتفاق کے لئے سخت مضر ہے۔اول تو دیہات ہیں بہت سے امراء اور صاحب املاک کہی ہوتے ہیں۔اور شہروں میں بہت سے غریب ہوتے ہیں۔محض شہر اور گالوں کا معیار بالکل غیر موزون ہے۔دوسم یہ طریق دیہاتیوں اور شہریوں میں تفریق کو اور بھی مضبوط کر دے گا۔اب گویا دیہاتیوں اور شہریوں میں آپس میں رشتے کرتے اور زیادہ مشکل کر دیئے گئے۔قمر کی حد بندی کا یہ طریق ہرگز معقول نہیں انہیں کے مثقال سونے سے کم کی اجازت نہ دینا بہت سے شہریوں پر ظلم ہے۔بہار اللہ نے سمجھا کہ اگر میں نے میرات د (۲) اکیسویں خصوصیت کے متعلق قواعد مرتب کئے تو میری ہی یاد کرده شریعیت ناتمام رہے گی۔اس لئے اس نے اقدس کے و عش میں ورثاء کے نام لے کر حساب جمیل کے مطابق ان کے حصوں کا ذکر کیا ہے۔اس موقعہ پر حساب جمیل کے طریق کو اختیار کرنے کی حکمت بھی جناب بہاء اللہ ہی جانتے تھے۔بہائی شریعیت شادی کے لئے بہار الہ نے سر کی میں علی الترتیب سات قسم کے ورثاء تجویز کئے گئے ہیں۔(1) اولاد اللہ نے اسے معاف کر دیا ہے۔(۳۲۴) مطلق حکم دے کر دوسرے ہی سانس میں اس پر خط تنسیخ کھینچنا بناء اللہ کا ہی طریق عمل ہے۔(۲۰) بیسویں خصوصیت حد بندی کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ (۲) ازواج (۳) آباء - (۴) اقمات (۵) اخوان