بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 64 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 64

۱۲۵ ۱۲۴ یہ بھی یادر ہے کہ مسجد کی یہ قبر بہار اللہ کی قبر ہونے کی وجہ سے مسجود بن ہی ہے۔مرزا عبدالحسین بھائی اپنی کتاب الكواكب الدريه في تأثر البهائية ہ میں لکھتے ہیں :- اولین زیاد نگاه مهم ایلی بهار که بسیار نزدیشان محترم است ہاں مضیح مظہر حضرت بہاء الله در بیلی عنقا است و این مصحیح مقدس محل توجیہ اہل بماء شد از پیمان وقعیت که حضرتش در آنجا مد خون گشت کہ سب سے مقدم اور ضروری زیارتگاہ جو اہل بہاء کے نزدیک بہت بڑا احترام اور اعزاز رکھتی ہے وہ زیارت گاہ ہے جو بہیجہ واقع عکا میں بہاء اللہ کا مدفن ہے جو بہاء اللہ کے وہاں دفن ہونے کے وقت سے اہلِ بہاء کا قبلہ نماز ہے۔حضرات ! آپ خود ان تمام حوالہ جات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اہل بہا دینا بے بہاء اللہ کی تعلیمات کے مطابق ان کو مجود حقیقی سمجھتے ہیں اور ان کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں۔ایک طرف تو یہ صورت حال ہے ، دوسری طرف ہمارے سید مولی حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لعن الله الیهود والنصارى اتخذوا قبور انبیاء هم مساجد که الله تعالی یہود و نصاری پرلعنت کرے کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔حضرت سرویہ کو نین محمد مصطفے صل للہ علیہ آلہ وسلم نے وفات کے وقت دعا فرماتی ہے۔اللهم لا تجعل تبرى وثنا یعبد - خدایا ! میری قبربیت نہ بن جائے کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگ جائیں۔یہ ہے اسلامی توحید کا مقام اور وہ ہے بہائیت کی مشر کا نہ تعلیم آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بہاء اللہ کا کیا دعوئی ہے اور ان کے دعونی کا کیا اثر پیدا ہوا ہے مصاف ظاہر ہے کہ وہ بہائیوں کو پھر اسلام ہے پہلے کی بت پرستی اور انسان پرستی کے گڑھے میں گرا رہے ہیں۔انا لله وانا اليه راجعون - بہائیوں کو بچپن سے تعلیم دی جاتی ہے کہ :۔در آن یوم جمال اقدس الهی بر عرش ربوبیت کبری مستوی و بكل اسماء حسنی و صفات علیا بر اہل ارض وسماء تخیلی فرمود و دروس الديانة منشا گویا بہاء اللہ کو برش الوہیت و ربوبیت پر ماننا تمام بھائیوں کے لئے لازمی ہے۔خود عبد البہاء پہلے نبیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- جمیع آیا مه که آمده درفت است ایام مونی بوده، ایام میسیج بوده، ایام ابراهیم بوده وهمچنین ایام سائز ان یا ربوده ود اما آبی ینام یوم الله است : رمضاضات فارسی من گویا انبیاء سابقین کے عہد اولہ دکور تو ان کے دور تھے مگر بہاء اللہ کا