بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 58
بجنود من الملأ الأعلى وقبيل من الملائكة المقربين نوید فرمودند یعنی بہاء اللہ نے اپنی کتاب میں یہ بشارت دی ہے کہ میں تم کو اپنی افق اعلی سے دیکھتا ہوں۔جو شخص میرے دین کی تائید کیلئے کھڑا ہوگا۔میں اس کی مدد طلا اعلیٰ کے لشکروں اور مقرب فرشتوں کی جماعت سے کروں گا" 11) بہائی لوگ بہاء اللہ سے ہی دعائیں کرتے ہیں اسی کو مجیب الدعوات مانتے ہیں۔اس کے لئے چند حوالہ جات پیشیں ہیں :۔(الف)، بہائیوں کی کتاب دروس الدیانہ کے درس نمیرہ میں لکھا ہے :۔ما چنانچه ذکر شد در قلب باید متوجه جمال قدم واسم اعظم باشیم زیرا مناجات و راز و نیاز ما با اوست و شنونده جز او نیست و اجابت کننده غیر اونه کہ دعانا نگتے وقت ہمارا دل بہاء اللہ کی طرف توجہ رہنا چاہیئے۔کیونکہ ہماری دعائیں اور بہار تمام رازو نیاز اسی سے ہیں۔اس کے سوا ہماری دعاؤں کو شکنے وال اور قبول کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔(ب) مکاتیب عبد البهاء جلد امت سوال میں عبد البہاء ایک بھائی کو سکھتے ہیں۔نظر بالطاف جمالی ایسی نمائی زیرا فیوضات بے پایاں است و فصل دی سینش ہے حضرو کران۔۔۔۔۔پس جمیع توقیه را باید بالطاف دو نمانیم آنچه می طلبیم از و طلبیم و آنچه آرزو داریم از و جوشیم کہ اپنی نظر جمال انہی رہا۔اللہ کی قربانیوں پر رکھو کیونکہ ان کے فیوض بے حد ہیں اور ان کے فضل ان وشیشیں بے حساب ہیں ہمیں چاہیئے کہ اپنی ساری تو بیان کی دریا نوں پہ رکھیں۔ہم جو چاہتے ہیں جن سے مانگیں اور ہماری ہو آرزو ہے ان کے بھنور سے ان کے پاور ہم نہیں انیس کریں (ج) بدائع الآثار جلد ما امسی عبد البعد کا ایک بار شائع ہوا ہے۔پرشنگی کی دو عورتوں کے نام اس دو کے بھیجا تھا۔اس کیا اسرو رہ لکھتے ہیں۔۔۔من عبید الینا د ی تیم می فرستہ بہار اللہ ہے مثل و تنظیر است کل باید توجه مساء الشد نمایند در دیا۔این است ما نیب خیر البہاء کہ میں بہاء اللہ کا بندہ ہوں حضرت بیاء اللہ کی ذات بے مثل و بے نظیر ہے۔سب کو چا ہیئے کہ دعائیں اپنی تویہ بہاء اللہ کی طرف رکھیں مجھے عبد البہاء کا ہی مذہب ہے۔(د) مکاتیب خطرہ ۲۳ میں بہانا اللہ کی تائیدات آسمانی کی نسبت عبد البہاء لکھتے ہیں :-