بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 33
۶۳ ۶۲ اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ ہو گزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔دکشتی نورج منت پھر حضور فرماتے ہیں:۔اب وہ زمانہ آگیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں، جس کے نام کی بے قوتی کی گئی، جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لیا کہ کتابیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔وہی سچا اور میچوں کا سردار ہے اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا۔مگر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا۔اس کے غلاموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکاملہ مخاطبہ کرتا ہے۔یہ ر حقیقة الوحی مت ہیں ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔البتہ نئی شریعت آسکتی ہے جو قرآنی شریعیت کو منسوج کر دے۔نیز خدا تعالے کے مستقل طور جو سکتے ہیں۔علامہ ابوالفضل بہائی لکھتے ہیں:۔نه لفظ خاتم النبیین دلالت دارد که شریعتی دیگر بعد از شریعت نبویہ ظاہر نگردد و نه کلمه لانبی بعدی سعی بر اینکه صاحب امری بعد از حضرت رسول ظاہر نشود: (الفرائد ۳۳) کہ ہمارے نزدیک نہ لفظ خاتم النبیین اور نہ ہی کلمہ لا نبی بعدی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آئندہ کوئی شریعت نہ آئے گی یا کوئی شارع بعد آنحضرت صلعم ظاہر نہ ہو گا یہ ہندوستانی بھائیوں نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ :۔ایل بهار دور نبوت کو ختم جانتے ہیں۔امت محمدیہ میں بھی نبوت جاری نہیں سمجھتے۔ہاں خدا کی قدرت کو ختم نہیں جانتے۔اسلئے خدا کی قدرت کے نئے ظہور کو تسلیم کرتے ہیں جو ہور سے آگے ایک نئی شان رکھتا ہے اور یہ دور نبوت کے ختم ہوتے اللہ تعالے نے قرآن مجید میں ہمارے شید و مولی کا کھلا اعلان ہے۔اسی لئے اہل بہار نے کبھی نہیں کہا کہ نبوت رم خاتم النبیین حضرت تحریری صل الش علیہ سلم کو ا ام البیان ختم نہیں ہوئی اور موجود کل ادیان نبی یا رسول ہے بلکہ اس کا قرار دیا ہے۔یہائی لوگ ہنحضرت کے خاتم النبی تین ہونے کے قائل ہیں۔مگر ختم نبوت کی وہ یہ تشریح کرتے ہیں کہ آئندہ کے لئے نبیوں کا دور ختم کر دیا گیا ہے۔نبیوں کے دورے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ظهور مستقل خدائی ظہور ہے یہ رسالہ کو کب ہند وپہلی جلد و امیری مورخه ۲۳ جون شاه ما بہائیوں کے اس عقیدہ کا واضح مطلب یہ ہے کہ دین اسلام روحانی