بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 20
۳۶ خرجنا من الوطن ومعنا فرسان من جانب سکھانے کھڑا ہو گا۔راتوں میں سے ایک رات عالم رویا نہیں الدولة العلية الايرانية ودولة الروس الى ان ہرست سے یہ بلند کلمہ سنائی دیا۔انا ننصرك بك و بقدمك لا تحزن عما ورد عليك ولا تخف أنك من الأمنين - سوف يبعث الله كنوز الارض وهم رجال ينصرونك بك وباسمك الذى به احيا الله افئدة العارفين (لوح ابن ذئب مت) وردنا العراق بالعزة والاقتداري رنبالة من تعاليم البهاء مطبوعة مصرمك ترجمہ :۔کہ جب ہم ایمان سے روانہ ہوئے تو ہمارے ساتھ حکومت ایران اور حکومت روس کے سوار تھے یہاں تک کہ ہم عراق میں عزت و تکریم کے ساتھ پہنچ گئے " جب تین ماہ کے بعد رہا ہوئے تو حیاء اللہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے اب بہائی تحریک کا آغاز ہوتا ہے۔بہاء اللہ یعنی مرزا حسین علی صاحب نام سے عراق کے لیئے روانہ ہوئے اور اس وقت ایرانی اور روسی حکومت طران میں ہار نومبر کا ماله مطابق ۲ محرم له بمجری کو مزا لباس نوری کے سیاسی ان کی نگرانی کرتے تھے مقالہ سیاح کا مصنف لکھتا ہے : کے گھر پیدا ہوئے تھے لکھا ہے کہ :۔حضرت بہاء اللہ نے درخواست کی کہ ان کو مقدس مقامات حضرت بہاء اللہ نے کسی کالج یا سکول میں تعلیم نہ پائی تھی۔ملہ میں بہاء اللہ ستائیس برس کی عمر میں باب پر ایمان لائے تھے نیش دارد مذہبی کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی جائے چند مہینے جو کچھ آپنے پڑھا تھا وہ گھر میں ہی سیکھا تھا۔عصر جدید اردو ) کے بعد پادشاہ اور وزیر اعظم سے اہمہارت حاصل کر کے شاہی غلاموں کے ساتھ ان مقامات مقدمہ کی طرف روانہ ہوئے یہ میں باپ اپنی نئی شریعت البیان کو نا تمام چھوڑ کر قتل ہو گئے۔تب رباب الحياة مسلم بہاء اللہ کے سامنے بدشت کا نفرنس کی تجویز کے مطابق قرآنی شریعیت کے نسخ کا سوال ہے اہم تھا۔ایران سے جناب بہاء اللہ محرم مال مہجوری بہاء اللہ صاحب خود لکھتے ہیں۔حب الاذن و اجازه سلطان زمان این عمد از صفر میں قافلہ سمیت بغداد پہنچ گئے۔صبح ازل کی مخالفت کا سلسلہ نیاں بھی بیاری سریر شیطانی بحراق عرب توقیه نمود دوازده است دوراں تھا اس سے لگ کر آپ کے کو اطلاع دیے نیا سال کے لئے سلیمانیہ تنگ بغیر بار من ساکن - رباب الحياة مثلا کے پہاڑوں میں چلے گئے۔لوح ابن ذئب میں لکھتے ہیں :- جناب بہاء اللہ لکھتے ہیں:۔آن