اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 82
82 تک پہنچاتے ہیں کیونکہ خدا تک پہنچانے والا صرف ایک ہی مذہب ہے جو اسلام ہے۔لیکن اسلام کی خوبی اور کمال کے جاننے کے لئے دوسرے مذاہب کا بھی مختصر علم تو ہو کہ وہ کیا ہیں؟ دنیاوی علوم اسی طرح آج جب میں دنیاوی علوم کے نام لوں گا تو یہ مطلب نہیں ہوگا کہ واقعی ہر ایک علم ہے صرف یہ مطلب ہوگا کہ بعض اس کو علم کہتے ہیں جیسے اسلام کے مقابلہ میں ہندوؤں کے عقائد بتانے سے یہ غرض ہے کہ یہ معلوم ہو جائے اس میں کیا نقص اور کمزوری ہے۔اسی طرح جہالت کے علوم سے واقف ہونا ضروری ہے کہ اس کے معلوم ہونے سے جہالت ثابت کر سکتے ہیں اور کم از کم ان کے نزدیک ہم نہ جائیں گے جب اس کی برائی کا علم ہوگا۔اب میں نمبر وارد نیاوی علوم بتا تا ہوں۔(۱) دنیاوی علوم میں سب سے پہلا علم جس کو تمام علوم کی بنیاد یا برتن یا ظرف کہنا چاہیئے وہ زبان کا علم ہے۔جیتک زبان کا علم نہ ہو انسان اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا نہیں سکتا۔اس زبان کے علم کے یہ معنے نہیں کہ انسان اپنے خیالات دوسروں تک کس ذریعہ سے پہنچا سکتا ہے۔سو آ گے تین طرز پرتقسیم ہوتا ہے۔علم اللسان اول وہ زبان جو لفظ کے ذریعہ بتائی جاتی ہے جو منہ کے حرکات سے آواز پیدا ہوتی ہے یامنہ سے کوئی بات انسان بیان کرتا ہے جس کو دوسرے انسان کانوں سے سنکر سمجھتے ہیں جیسا کہ میں اب بول رہا ہوں اور تم اُس کو سن رہے ہو۔یہ تقریری زبان کہلاتی ہے۔دوم۔علم زبان کا ایک حصہ وہ ہوتا ہے جس کو تحریری زبان کہتے ہیں۔یعنی اپنے مطالب اور خیالات کو لکھ کر پیش کرنا۔وہ الفاظ جو ہم بولتے ہیں ان کے لئے کچھ اشارات اور نقوش ہوتے ہیں اُن کے ذریعہ سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے تم کو معلوم ہے کہ ہر بات لکھ کر پیش کر سکتے ہیں۔سوم :۔ایک زبان اشارات سے تعلق رکھتی ہے۔اس میں نہ بولا جاتا ہے نہ لکھا جاتا ہے بلکہ اشارات ہوتے ہیں جیسے تار آتا ہے۔تار دینے والا کچھ اشارات کرتا ہے اور لینے والا ان اشارات کو سمجھتا ہے کہ اس سے مُراد ہے کہ ایک دفعہ ٹک ٹک ہو گا تو یہ حرف ہوگا دو دفعہ ہوگا تو یہ حرف ہوگا۔پھر وہ ان اشارات سے کئی سو میل کے فاصلہ پر سے مطلب سمجھ لیتا ہے۔یا پرانے زمانہ میں جانوروں یا مختلف قسم کی شکلوں کے بنانے سے اپنا مطلب ظاہر کر دیا کرتے تھے۔مثلاً کتے سے یہ مطلب ہوگا۔یا شیر سے یہ مطلب ہوگا۔مصر میں یہی زبان