اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 64

64 میں نے بتایا کہ مختلف اوقات میں علمی امور پر تقریریں ہوتی رہیں تا کہ سب ممبر واقف ہو جائیں اور یہ علوم دینی ہوں یا د نیوی۔اور یہ بھی بتایا تھا کہ مردوں کو بعض وقت معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے مسائل ہیں جو عورتوں کے لئے ضروری ہیں اس لئے میں نے تجویز کیا کہ ایک لیکچر ایسا ہو کہ اس میں بنادیا جائے کہ معلوم کون سے ہیں تب عورتیں خود فیصلہ کر سکیں گی کہ وہ کس علم کے متعلق تفصیل سے سننا چاہتی ہیں۔جیسے اگر کسی شخص کو شہروں کے دیکھنے کی خواہش ہو۔مثلاً دہلی ہے تو وہ اُس کے دیکھنے کے لئے آرزو کرے گا اس لئے کہ اُس نے دوسرے بڑے شہروں جیسے لنڈن یا پیرس کا نام نہیں سنا اور نہ اُن کی وسعت اور خوبصورتی کے متعلق کچھ معلوم ہے حالانکہ لنڈن۔پیرس۔برلن۔بہت بڑے شہر ہیں مگر چونکہ اُن کے متعلق علم نہیں اس لئے دہلی کے دیکھنے کی خواہش کریں گے حالانکہ وہ ان شہروں سے کچھ نسبت ہی نہیں رکھتی۔اسی طرح عورتیں اُسی وقت معلوم کریں گی جب اُن کے سامنے علوم کی ایک فہرست رکھ دی جائے۔پس میرا یہ لیکچر صرف علوم کی تعریف کے متعلق ہو گا میں بتاؤں گا کہ دنیا میں کیا کیا علوم ہیں۔علم کے مفہوم کی وسعت علم کے معنے میرے نزدیک یہ نہیں کہ جو سچا ہی ہو۔میرے نزدیک علم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ فی الحقیقت وہ بچے اور مکمل ہوتے ہیں اور بعض نہ بچے ہوتے ہیں اور نہ مکمل ہوتے ہیں مگر پھر بھی اُن کو علم کہا جا سکتا ہے اور بعض ابھی معرض تحقیق میں ہوتے ہیں مگر علم کہلاتے ہیں۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کو پڑھنا ہوتا ہے مگر عمل اور کام کرنا نہیں ہوتا۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں صرف کام کرنا پڑتا ہے اور ہاتھ کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔پس میں اس مضمون میں صرف علوم کی فہرست بتاؤں گا تا کہ اندازہ کر لیں کہ کس کس قدر علم کی ضرورت ہے اور اسی طرح پر اس فہرست میں وہ علوم بھی لوں گا جو بچے اور درست ہیں اور وہ علم بھی لوں گا جو درست نہیں، ایسے بھی جو عقل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے بھی جو صرف عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔مذہبی علوم مذہبی علوم کے معلوم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مذہب کیا چیز ہے اور کن باتوں میں مختلف مذاہب میں باہم اختلاف ہوا ہے۔مذہب پر اگر غور کریں تو تین باتوں کی وجہ سے اختلاف ہوا ہے۔اس کے متعلق بھی میں تفصیلات نہیں بیان کروں گا بلکہ مذاہب کے مختلف پہلو بیان کروں گا۔