اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 63
63 نقار بر ثلاثه تقریر اول حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلسه لجنہ اماءاللہ منعقدہ مورخه ۵ - فروری ۱۹۲۳ء علم دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے میں نے پچھلے جلسہ کے ایک موقعہ پر یہ بات بیان کی تھی کرہ علم کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختلف علوم کے متعلق ایسے لوگوں کے لیکچر ہوتے رہیں جو اُن کے ماہر ہوں۔خواہ یہ علوم دینی ہوں یا دنیاوی کیونکہ ہر قسم کا علم انسان کی دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔بعض دفعہ انسان مذہبی طور پر ایک رتبہ حاصل کر لیتا ہے مگر دنیاوی علوم نہ جاننے کے باعث ذلیل ہوتا ہے۔حکایت حضرت مسیح موعود السلام کسی شخص کا جو بزرگ مشہور تھا واقعہ بیان کرتے تھے۔۔۔۔۔بادشاہ کے درباریوں میں سے کوئی اُس کا معتقد تھا وہ ہمیشہ بادشاہ کو تحریک کرتا تھا کہ اس بزرگ کے پاس چلو مگر بادشاہ ہمیشہ اُس کو ٹلا دیتا تھا۔بار بار کے کہنے پر ایک بار بادشاہ کو خیال آیا کہ چل کر دیکھیں تو سہی بزرگ کہلاتا ہے اُس میں کیا کمال اور بزرگی ہے۔چنانچہ بادشاہ وہاں پہنچا۔اس کو خیال ہوا کہ بادشاہ پر کچھ اثر ڈالنا چاہیئے اور اس کے لئے اس نے مناسب سمجھا کہ کچھ نصیحت کروں اور اس طرح علم کا اظہار کروں تا کہ اُس کی عقیدت میں ترقی ہو۔اس خیال پر اُس نے اپنی تقریر کا سلسلہ شروع کیا اور کہا کہ بادشاہوں کو لازم ہے کہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کریں اور اُن پر ظلم نہ کریں۔مسلمان بادشاہوں میں سے ایک سکندر بادشاہ تھا جو رسول اللہ سے ہزار سال پہلے گزرا تھا۔بادشاہ نے جب یہ بات سنی تو اُس کا چہرہ متغیر ہوا اور اس کو معلوم ہوا کہ یہ شخص محض جاہل ہے اور اُٹھ کر چلا آیا۔اس کو نفس کی خواہش نے ہلاک کیا اور ضروری علم کے نہ جاننے کی وجہ سے ذلیل ہوا۔اگر چہ یہ کوئی ضروری بات نہیں کہ کوئی بزرگ ہو تو اسے یہ معلوم ہو کہ سکندر کون تھا مگر اُس شخص نے محض اپنے نفس کی بڑائی کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ وہ تاریخ سے بھی واقف ہے ایک ایسی بات کہی جو اُس کی ذلت کا باعث ہوگئی اس لئے کہ وہ غلط تھی۔پس ایسے علوم سے انسان کو کم از کم واقفیت ہونی چاہیئے اسی لئے