اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 57
57 کھڑے ہوئے۔تو ایک عورت کے مشورے کی بدولت یہ مشکل حل ہوگئی۔عورتیں اپنی اہمیت نہیں بجھتیں مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس زمانہ میں عورتیں خود اپنی اہمیت نہیں سمجھتیں اور وہ یہی سمجھتی ہیں کہ ہم مردوں کے لئے ہیں اور جس مذہب کو مر د اختیار کرتا ہے اُسی پر وہ چل پڑتی ہیں اور یہ نہیں سمجھتیں کہ خدا تعالی کے ساتھ مرد اور عورت کا تعلق الگ الگ ہے مگر موجودہ صورت میں تو جو مرد نے کہ دیا وہی اُن کا ایمان ہے۔اس لئے چاہیئے کہ عورت خود دین کو سوچ سمجھ کر اختیار کرے کیونکہ خدا کے سامنے اُس نے یہ جواب نہیں دینا کہ میرا خاوند احمد کی تھا تو میں احمدی ہوئی یا میرا خاوند عیسائی تھا تو میں عیسائی ہوئی۔اُس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے کونسا مذ ہب سچا سمجھ کر اختیار کیا۔عورتوں کا تعلق خدا کیساتھ آج میں اس بات پر بیان کروں گا کہ عورتیں اپنے ایمان کے متعلق یہ یاد رکھیں کہ اُن کا تعلق خدا کے ساتھ علیحدہ ہے۔چنانچہ عورتیں بھی خدا کے ساتھ تعلق رکھ سکتی ہیں۔بشرطیکہ اُن کا ایمان اپنا ایمان ہو خاوندوں کا ایمان نہ ہو۔پچھلے زمانہ میں کئی عورتیں ایسی گزری ہیں کہ انہیں الہام ہو ا کرتے تھے۔مثلاً رابعہ بصری، مریم ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ۔ان کے ساتھ خدا کلام کرتا تھا۔اگر عورتیں سمجھے کر دین اختیار کریں تو مرد چاہے کہیں بھٹکتا پھرے عورت کو ابتلاء نہیں آسکتا اور جودیکھ کر ایمان لایا ہوتا ہے اُس کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ بگڑتا نہیں اور ابتلا نہیں آتا کیونکہ جس نے دیکھ کر قبول کیا ہوتا ہے اگر ساری دنیا بھی اُس کو پھرانا چاہے تو پھر نہیں سکتا۔ایمان کے بغیر مستقل ترقی نہیں یا د رکھو کہ ایمان کے بغیر مستقل ترقی نہیں ہوتی۔بھلا کیا وجہ ہے کہ مردوں نے اتنی ترقی کی ہے کہ اگر وہ آروں سے بھی کانے جاویں تو دین نہیں چھوڑتے مگر عورتوں نے چونکہ مردوں کی خاطر دین مانا ہوتا ہے خدا کے لئے نہیں اسلئے کوئی قربانی بھی نہیں کر سکتیں۔پس جان لو کہ کوئی نماز، کوئی روزہ، کوئی حج ، غرضیکہ کوئی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی جب تک ایمان اپنا نہ ہو بلکہ خاوندوں کی وجہ سے ہو۔اور اگر تم یہ یقین رکھو کہ ہمیں خدا نے صرف مردوں کے لئے پیدا کیا ہے تو کوئی ترقی نہیں کر سکتیں۔عورتوں کی ترقی سے دین کی ترقی یادر کھو کہ کوئی دین ترقی نہیں کر سکتا جب تک عورتیں ترقی : کریں، پس اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تم بھی ترقی کرو۔عورتیں کمرے کی چار دیواروں میں سے دود یوار میں ہیں۔اگر کمرے کی دو دیواریں گر جائیں تو کیا اُس کمرے کی چھت ٹھہر سکتی ہے۔نہیں ہرگز نہیں۔