اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 33

33 فرمانبرداری نہ کرے اور جو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتی وہ عقل مند کہلانے کی مستحق نہیں بلکہ وہ پاگل اور سودائی ہے۔دیکھو جب ایک بادشاہ لکھتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں تو لوگ اُس کی بات کو تسلیم کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی بادشاہ نہ ہو اور کہے کہ میں بادشاہ ہوں تو اُسے پاگل کہا جا سکتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ جو بادشاہ ہوتا ہے اُس کے پاس کئی فوجیں اور بادشاہت کا ساز وسامان ہوتا ہے مگر گلیوں میں دھکے کھانیوالا نگا انسان چونکہ بادشاہت کی علامت نہیں رکھتا اس لئے اُسے پاگل کہا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ متمند جو بات کہتا ہے اُس کا اُس کے پاس ثبوت ہوتا ہے۔لیکن سودائی جو کہتا ہے اُس کا اُسکے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ یا جو عورت یہ کہتی ہے کہ میں مومن مسلمان ہوں لیکن وہ خدا تعالی کے احکام کو نہیں مانتی خدا تعالی کی فرنمبر اوری نہیں کرتی اس میں اور پاگل میں کیا فرق ہے؟ کچھ نہیں۔ایسا مرد ایسی عورت تو ایک پاگل کے بادشاہ ہونے سے بھی بڑا دعوی کرتی ہے جس کا اُس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا اس لئے وہ پاگل سے بھی گئی گزری ہے۔پس دوسری نصیحت میں تم کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالی کے احکام پر عمل کرو، اس کی اطاعت کرو، اُس کے حکموں کو مان لو اگر تم ایسا کرو گی تب مومن اور مسلمان کہلا سکو گی ورنہ تمہارا یہ دھوئی ایک پاگل اور سودائی کے دعوئی سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھے گا۔خدا تعالی کا بندہ : وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام پر چلے اب میں ہی اسلام کا خلاصہ بتا تا ہوں۔اسلام کا خلاصہ دو باتیں ہیں ایک یہ کہ بندے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ ِالَّا لِيَعْبُدُونِ کہ میں نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ میرے بندے بن جائیں۔یعنی اپنے بچے غلام بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جن میں بندگی کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔اگر صرف خدا تعالی کے پیدا کر دینے سے ہی انسان اُس کے بندے بن جاتے تو پھر خدا تعالیٰ کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ میں نے اُن کو بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بننے کے کچھ اور معنے ہیں اور وہ یہی ہیں کہ ایک غلام اپنے آقا کے سامنے کیا کیا کرتا ہے یہی کہ ہاتھ باندھ کر اُس کے احکام ماننے کے لئے کھڑا رہتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا بند ؛ بننے کے یہ معنے ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کا فرمانبراد ہے۔ہر وقت اُس کے احکام مانتار ہے اور خدا تعالیٰ سے