اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 384

384 دوسرے لوگ متوجہ ہوں اور ماں کو اسی لئے اُتم کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے نیز بچوں کی تربیت کا مرکزی مقام ہے جس کی طرف بچے اپنی ضروریات کو پورا کرنے لئے متوجہ ہوتے ہیں۔اب اگر اتم کا لفظ بدل کر اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ رکھ لیا جائے تو لفظ سے ہر گز یہ معنے پیدا نہیں ہوں گے جوام کے لفظ سے پیدا ہوتے ہیں۔صرف ایک علامت رہ جائے گی۔اسی طرح ہمارے قرآن مجید میں بنی نوع یعنی مرد اور عورت کا جو مشتر کہ نام ”انسان“ رکھا ہے۔یہ انسان کا لفظ بھی ایک بامعنے لفظ ہے۔اصل میں یہ لفظ انسان ہے جسکے معنے ہیں دو محبتیں۔پس یہ لفظ مرد اور عورت دونوں پر مشتمل ہے اس کے معنے ہیں ایسا وجود جودو محسبتوں کا ظاہر کرنے والا ہے۔یعنی ایک طرف یہ لفظ اس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو خدا اور بندے کے درمیان ہے۔اور دوسری طرف اس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو بندوں کو بندوں سے ہے۔پس انسان کے معنے ہیں وہ وجود جو ایک طرف خدا سے محبت کرنے والا ہو اور دوسری طرف بندوں سے محبت کرنے والا ہو۔ایسا وجو د سوائے انسان کے دُنیا میں اور کوئی نہیں۔انسان میں اگر حیات پائی جاتی ہے تو دوسرے جانوروں میں بھی حیات پائی جاتی ہے۔انسان دیکھتا ہے تو دوسرے جانوروں کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں اور وہ بھی دیکھتے ہیں۔انسان کے کان ہیں ، تو دوسرے جانوروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔جس طرح انسان کھاتا پیتا ہے اسی طرح وہ بھی کھاتے پیتے ہیں۔انسان میں چلنے اور دوڑنے کی صفت پائی جاتی ہے تو باقی جانور بھی چلتے پھرتے اور دوڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔انسان کے نر اور مادہ ہوتے ہیں تو باقی جانوروں میں بھی نرومادہ ہوتے ہیں اور وہ بھی بیچے جنتے ہیں اور پالتے ہیں۔لیکن ایک چیز جو انسان کو باقی جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور جو چیز باقی جانوروں میں نہیں پائی جاتی وہ اُنسیت ہے جو بندے کو خدا سے ہوتی ہے انسانوں میں ہی وہ لوگ نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔اور ان کو خدا تعالیٰ سے محبت کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی اس کے دروز و سے الگ نہیں ہوتے لیکن کسی حیوان میں یہ ملکہ نہیں پایا جاتا اس لئے حیوان اس دنیا میں اپنی زندگی کو پورا کر لیتے ہیں اور مرنے کے بعد اُن کو دوبارہ زندگی نہیں ملتی لیکن انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتا ہے اور اپنی دائمی زندگی گزارنے کے لئے وہ ایک نئی سڑک پر قدم مارتا ہے جو سڑک کبھی جنت میں سے ہو کر گزرتی ہے اور کبھی دوزخ میں سے ہو کر گزرتی ہے۔پس انسان کے معنے ہیں دو جنتیں رکھنے والا وجود ایک خدا تعالی سے محبت اور دوسرے بنی نوح انسان سے محبت۔چنانچہ اسی نام کی وجہ سے اسلام نے مذہب کی جو حقیقت۔