اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 304
304 گا۔تو اس آیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ قوم کے لوگ گمراہ نہیں ہوئے ہیں اور ان کی گمراں اُن کی وفات کے بعد ہوئی۔پس اگر عیسی علیہ السلام زندہ موجود ہیں تو پھر اُن کی امت گمراہ نہیں ہوئی لیکن امت گمراہ ہو چکی ہے کیونکہ وہ توحید پر قائم نہیں۔پس امت کی گمراہی بتاتی ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔قرآن کا یہی فیصلہ ہے ، صحابہ کا بھی فیصلہ ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پس اس بارے میں ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے ٹھیک ہے اور ہم نے اس راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی غلطی نہیں دکھائی اور خدا ہم سے ناراض نہیں ہوا۔دوسری بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی برکات سے کوئی استی آدمی خاص برکات حاصل نہیں کر سکتا۔یہ ایک موٹی مثال ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے۔دیکھو نماز ہر مسلمان بالغ عورت یا مرد سب پر فرض ہے۔اسلام کا حکم ہے سات سال کے بچے کو نماز سکھاؤ اور دس سال کا بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ اور ایک دن میں پانچ وقت نماز میں فرض ہیں اور ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنے کا حکم دیا۔دیکھو دوسری سورتیں ہیں بعض رکعتوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔مگر الحمد شریف یعنی سورۃ فاتحہ ہر رکعت میں فرض ٹھہرائی۔پس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس سورۃ کے اس قدرسکھانے کی کیا وجہ ہے۔سو وہ آیت ہے اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی یا اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔راستہ اُن لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا۔اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نماز بغیر سورۃ فارتحہ کے نہیں ہوسکتی۔اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ سیدھا راستہ کونسا ہے اور قرآن شریف اس کی کیا تشریح کرتا ہے۔سورۃ النساء میں فرمایا:۔وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِا خُرُ جُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تثبيتاء وَإِذَ إِلَّا تَيْنَهُمْ مِنْ لَّدُنَا أَجْرًا عَظِيمًا، وَلَهَدَ يُنْهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِياً ه وَمَنْ يُطِعِ اللَّهِ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا هَ ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهَ ، وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمًاه مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اگر ہم لکھ دیتے اُن پر کر قتل کر واپنے نفسوں کو۔یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے نہ کرتے وہ اس کو سوائے چند ایک کے اُن میں سے۔اور اگر وہ کرتے جس کی وہ نصیحت دئے گئے تھے البتہ