اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 288
288 کر داخل ہوں گے۔تو مطلب آپ کا عورتوں کو کہنے کا یہی تھا کہ تم احسان فرموشی چھوڑ دو اور اپنی عقلوں کو بڑھاؤ۔اکثر بچوں کو دیکھا ہے کہ پہلے عقل کم ہوتی ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ عقل درست ہو جاتی ہے۔تو اب اگر عورتوں کو بھی ایسا کہا کہ تم عقل میں یادین میں ناقص ہو تو کیا وہ معقل یا دین چھوڑ کر بیٹھ جائیں۔نہیں ہرگز نہیں۔کیونکہ تم ناقص ہو دین میں اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ تم دین چھوڑ کر بیٹھ جاؤ بلکہ یہ تھا کہ تم دین سیکھو۔ہم دیکھتے ہیں بچے سکولوں میں جاتے ہیں اور شروع میں کچھ نہیں جانتے لیکن آخر سیکھ کر جانتے ہیں۔تو کیا شروع میں پڑھنا نہ آئے تو پڑھنا ہی چھوڑ دیا جائے ؟ یہ تو نصیحت تھی کہ احسان فراموشی چھوڑ دو۔دیکھو رسول کریم ﷺ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آپ سے پہلے عورتوں کو جانورں کی طرح سمجھا جاتا تھا اور طرح طرح کے ناقص نام رکھے جاتے تھے اور اب بھی اکثر قو میں اُن میں روح ہی نہیں مانتیں۔تو رسول کریم ﷺ نے کس قدر احسان کیا ہے یہ فرما کر کہ عورت اور مرد انسانیت میں برابر ہیں۔ہم دیکھتے ہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت دیندار ہوتی ہے اور مرددین میں کمزور ، عورت عقلمند ہوتی ہے اور مرد عقل میں کمزور، یہ کتنا بڑا رسول کریم ہے نے عورتوں پر احسان کیا تو عورتوں کا فرض تھا کہ اس احسان کے شکریہ میں اشاعت اسلام کرتیں لیکن یہ سب قصور علماء زمانہ کا ہے۔انہو یا نے عورتوں کو یہ بتلایا کہ تمہاری عقل اور ذہن کمزور ہے تم کچھ کر ہی نہیں سکتیں۔حالانکہ رسول کریم میں نے نے عورتوں کو غیرت دلائی تھی تم کہاں بغیر امر صالح کے جنت میں داخل ہو سکتی ہو عقل نہیں سیکھتی ہو ، دین کے کام نہیں کرتی ہو عقل کام سے آتی ہے اور کام سیکھنے سے آتے ہیں۔لیکن اس کا النا مفہوم سمجھانے کا قصور مولویوں کا ہے۔آج میں نے تمہیں حدیث کی حقیقت سمجھا دی ہے تا کہ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ اس کا مطلب یہ تھا۔اب اس نصیحت کے بعد جو تمہید ہے میرے مضمون کی یہ اختلا نا چاہتا ہوں کہ اسلام کی خدمت کا یہ نادر موقع ہے کیونکہ اسلام کا آدھا دھڑ مولویوں نے مار دیا تھا کہ عورتیں ناقص العقل ہیں وہ کچھ کر ہی نہیں سکتیں اور اسلام کے متعلق ایسی ایسی باتیں مسلمانوں میں پیدا کی تھیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ تمام انبیاء مسن شیطان سے مبر انہیں۔الغرض سارے انبیاء پر کچھ نہ کچھ عیب لگائے ہوئے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اسلام کی اصل تصویر پیش کی۔علماء نے لوگوں میں یہ پھیلایا ہوا تھا کہ قرآن کریم کی بہت کو ایسی باتیں ہیں جو ماننے کے قابل نہیں۔اگر وہ سب میں تم کو بتاؤں تو تم حیران ہو جاؤ۔یادرکھو اسلام و ؟