اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 287
287 صاحب فرماتے تھے کہ خدمت دین میں ترقی علم کا راز ہے۔امیر انسان تکبر سے نہیں ہوتا۔نہ روپے سے بلکہ سچے علم۔اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم سب کو سچا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تم حقیقی علم حاصل کرو۔(از مصباح ۱۵- جنوری ۱۹۳۴ء) تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ء خواتین جماعت احمدیہ حضور نے تشہد اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہمارے ملک بلکہ تمام ملکوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عورتیں جو ہیں وہ طبیعی طور پر اور فطری طور پر کوئی بڑا کام کرنے کی اہل نہیں تو عورتوں کو چاہیئے تھا کہ وہ بڑے کام کر کے اُن کے اس خیال کو غلط ثابت کرتیں لیکن برخلاف اس کے وہ بھی اس پر قانع ہو گئیں۔کیا واقعی وہ کسی بڑے کام کی اہل نہیں ؟ اور کیا اس کی بڑی الله بھاری وجہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ دوزخ میں میں نے بہت سی عورتیں دیکھیں بوجہ احسان فراموش ہونے اور بہیجہ ناقص اعتقل اور بوجہ ناقص الدین ہونے کے ؟ حضور کا یہ فرمانا تو عورتوں کو اُن کے نفس سے آگاہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھو تمہارے یہ نقص تم کو دوزخ میں لے جانے کے محرک ہیں۔احسان کی قدر نہ کرنا یہ فطرت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ عادت ہے دیکھو اگر ایک چور چوری کرتا ہے تو چوری اس کی فطرت نہیں بلکہ عادت ہے، اگر عورتوں کی عادت احسان فراموشی کرنا ہے تو یہ عادت جو ہے وہ بدلی جاسکتی ہے لیکن اس وقت کے جاہل علماء نے عورتوں کو بجائے یہ بتانے کے کہ تم میں یہ عادات خراب ہیں ان کو چھوڑ دوان کو یہ بتلایا کہ تمہاری فطرت ہی ایسی ہے کہ تم اس کو چھوڑ ہی نہیں سکتیں اور عورتوں نے بھی کہہ دیا کہ اچھا ایسا ہی سہی۔پس جب طبعیت کسی بیماری کا علاج نہ کرے اور مریض تسلی پا جائے تو پھر نتیجہ ہلاکت ہی ہے۔لیکن رسول کریم ﷺ نے یہ فرما کر کہ عورتیں بوجہ اسکے دوزخ میں جائیں گی کہ وہ احسان فراموش ہیں، ناقص ہیں دین میں اور ناقص ہیں عقل میں ، اُن کو غیرت دلائی کہ تم ان عادتوں کو چھوڑ دو تو جنت میں داخل ہو جاؤ گی جیسا کہ رسول کریم ﷺ کی دایہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے خوش طبعی کے طور پر کہا کہ بوڑھا تو جنت میں داخل ہوہی نہیں سکتا۔وہ بہت پریشان ہو ئیں تو آپ نے فرمایا کہ جنت میں سب جوان ہو