اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 226

226 مجھے اس وقت صحیح علم نہیں ہے لیکن بات ضرور تھی کہ اسے پڑھنا آتا تھا۔اس نے قرآن کو قرآن کر کے پڑھا، جت کی طمع اور دوزخ کے خوف سے نہیں ، عادت اور دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ خدا کی کتاب سمجھ کر اور یہ سمجھ کر کہ اس کے اندر دنیا کے تمام علوم میں اسے پڑھا۔اس کے نتیجہ میں باوجود اس کے کہ اسنے کسی کے پاس زا نوئے شاگردی تبہ نہیں کیا تمام دنیا کی استاد بنی۔وہ عورت کون تھی ؟ اُس کا نام عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا۔وہ بی بی فہم قرآن میں اکثر مردوں سے بڑھ گئی اُس نے قرآن کو جیسا کہ سمجھنے کا حق تھا سمجھا۔اُن کی صرف ایک مثال سے دنیا کے مرد شرمندہ ہیں۔کہ وہ بایں ہمہ عقل و دانش اس فہم و فراست کو حاصل نہ کر سکے۔وہ آیت ہے مَا كَانَ مُحَمَّد أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَا لِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ الله وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ - یعنی حد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ہاں اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔دنیا نے سمجھا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ادھر چونکہ آنحضرت ﷺ نے بھی فرما دیا ہے کہ لا نبی بعدی ( جس سے آپ کی یہ مرا تھی کہ میری شریعت کو منسوخ کر نیوالا کوئی نبی نہ آئے گا۔) یہ امر ایسے خیال کے لوگوں کے لئے اور بھی موید ثابت ہوا اور سب نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔مسلمان تمام دنیا میں پھیل گئے اور انہوں نے اپنے اس خیال کی خوب اشاعت کی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس قسم کی باتیں ایک مجلس میں ہورہی تھیں حضرت عائشہ وہاں سے گزریں اور آپ نے سنکر فرمایا قولواله عالم الأنبياءِ وَلَا تَقُولُو الا نبي بعده " دیکھو حضرت عائشہ نے قرآن پر غور کرنے سے کس قدر صحیح نتیجہ نکالا کہ آج اس زمانہ کے نبی نے اس سے فائدہ اٹھایا۔وہ خیالات جو تیرہ سو سال سے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالے ہوئے تھے اُن کو کس صفائی کے ساتھ رڈ فرمایا ہے۔تو حضرت عائشہ کے قرآن پر غور کرنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فائدہ اٹھایا اور احمدی جماعت اُن کی ممنون احسان ہے۔انہوں نے ان کی مشکلات کو آسان کر دیا۔یہ تو ایک واقعہ ان کے فہم قرآن کا ہے۔،، اسی بی بی کی فہم حدیث کی ایک مثال دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جس سے ان کے کمال فراست اور غور و فکر کا ثبوت ملتا ہے وہ حضرت علی کے بھائی