اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 225
225 ہیں ایک عورت کی مثال پیش کرو جس نے قرآن کریم سے کوئی نئی بات نکالی ہو اور ایسی بات پیش کی ہو جو دنیا کو پہلے معلوم نہ تھی۔اور اب تو آپ میں کچھا ایسی عورتیں بھی موجود ہیں جو مولوی کہلاتی ہیں۔میں پھر توجہ دلاتا ہوں اور سوال کرتا ہوں کہ تم میں سے کون ہے جسے قرآن شریف کی معرفت نصیب ہوئی ہو؟ اس کمی کی وجہ کیا ہے؟ تم میں سے کئی عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ مردوں کی طرفداری کی جاتی ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا تعالی کو بھی تم سے دشمنی ہے کہ وہ تمہاری مدد نہیں کرتا۔کیوں خدا کے کلام کا درواز ہ تم پر بند ہے اور کیوں فرشتے خدائی دربار تک تمہاری رسائی نہیں کراتے۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ تم قرآن کو قرآن کر کے نہیں پڑھتیں اور نہیں خیال کرتیں کہ اس کے اندر علم ہے، فوائد ہیں، حکمت ہے بلکہ صرف خدائی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو کہ اس کا پڑھنا فرض ہے اس لئے اس کی معرفت کا درواز ہ تم پر بند ہے۔دیکھو قرآن خدا کی کتاب ہے اور اپنے اندر علوم رکھتا ہے۔قرآن اس لئے نہیں کہ پڑھنے سے جنت ملے گی اور نہ پڑھنے سے دوزخ بلکہ فرمایا کہ فِيهِ ذِكْر كُمْ۔اس میں تمہاری روحانی ترقی اور علوم کے سامان ہیں۔قرآن کو نہ نہیں۔یہ اپنے اندر حکمت اور علوم رکھتا ہے۔جب تک اس کی معرفت حاصل نہ کرو گی قرآن کریم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔تم میں سے سینکڑوں ہوں گی جنہوں نے کسی نہ کسی سچائی کا اظہار کیا ہوگا۔لیکن اگر پوچھا جائے کہ تمہارے اس علم کا ماخذ کیا ہے تو وہ ہرگز ہرگز قرآن کو پیش نہ کریں گی بلکہ ان کی معلومات کا ذریعہ کتابیں ، رسائل ، ناول یا کسی مصنف کی تصنیف ہوں گی اور غالباً ہماری جماعت کی عورتوں میں حضرت مسیح موعود کی کوئی کتاب ہو گی۔تم میں سے کوئی ایک بھی یہ نہ کہے گی کہ میں نے فلاں بات قرآن پر غور کرنے کے نتیجے میں معلوم کی ہے۔کتنا بڑا اندھیر ہے کہ قرآن جو دنیا میں اپنے اندر خزانے رکھتا ہے اور سب بنی نوع انسان کے لئے یکساں ہے اُس سے تم اس قدر لا علم ہو۔اگر قرآن کا دروازہ تم پر بند ہو تو تم سے کس بات کی توقع ہو سکتی ہے؟ ایک عورت نے کس طرح ترقی کی میں تمہیں ایک عورت کا واقعہ سنا تا ہوں کہ جسے صرف معمولی لکھنا پڑھنا آتا تھا۔اس کے لکھنے کے متعلق