اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 217
217 مسلمانوں میں سے جو آسودہ حال لوگ ہیں وہ سمجھتے ہیں گھر میں بیٹھ کر خوب کھالیا ، کام نوکروں سے کرالیا بس یہی ہماری زندگی ہے حالانکہ اسلام انتہائی تن آسانی سے روکتا ہے۔دوسرے کو کام کی فرمائش کرنا سوال ہے۔ایک صحابی کہیں سفر پر گھوڑے پر سوار ہو کر جا رہے تھے کہ اُن کا کوڑا نیچے گر پڑا پیچھے سے ایک آدمی نے اُٹھا کر دینا چاہا آپ نے انہیں قسم دی۔خدا کی قسم کوڑا نہ اُٹھانا۔صحابی خود گھوڑے سے اترے اور کوڑا پکڑا تا کہ سوال سے بچیں۔رسول کریم ﷺ کی تعلیم عیب یا بیکاری کی نہیں مگر مسلمان عورتیں اکثر بے کار رہتی ہیں یعنی کوئی مفید اور نتیجہ خیز کام نہیں کرتیں جو صرف گھر کا کام ہی کام سمجھ کر کرتی ہیں ، اُن کا کام کھانا پکانا، بستر کرنا۔بچوں کے کپڑے دھونا بچوں کا پاخانہ صاف کرنا ہے لیکن اپنے پیٹ کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے تو بلی وغیرہ بھی انتظام کر لیتی ہیں انسان میں اور حیوان میں کیا فرق رہا۔اپنی زندگی میں سے ضرور کچھ وقت نکالو جو دوسروں کے کام آئے۔گھر کا کام بھی کرو لیکن کچھ نہ کچھ دوسروں کے فائدے کے لئے بھی کرو۔اپنے نفس سے سوال کرو کہ تم نے اپنی پچھلی زندگی میں دنیا کے فائدے کے لئے کیا کام کیا ہے اگر کچھ نہیں تو اب کرو۔آسودہ حال عورتوں کا کام تو صرف نوکروں پر حکم چلاتا ہے۔پھر بھی انہیں شکایت رہتی ہے بڑا کام ہے بڑا کام ہے۔انگلستان میں عورتیں بڑا کام کرتی ہیں دفتروں میں کلرک تیں ،نرس ، ڈاکٹری وغیرہ کا کام کرتی ہیں۔میں نے پچھلے سال عورتوں میں تحریک کی تھی کہ جو یہاں آکر تبلیغ کا کام سیکھنا چاہے ہم اُس کے لئے انتظام کر دیں گے۔مردوں میں درس کی تحریک کی تھی جس میں مرد تو پا لچھو آئے لیکن عورتوں کی طرف سے صرف ایک مخط آیا جس نے آمادگی ظاہر کی تھی۔عورتوں کو پچھلے سال ہر جگہ لجنہ قائم کرنے اور دستکاری کی تحریک کی تھی باوجود اس کے سوائے چند عورتوں کے کسی نے توجہ نہ کی۔دستکاری سیکھ کر تم غریبوں کی مدد کرو۔ہاتھ سے کام کرنا بہتک نہیں بلکہ بہترین عزت ہے۔بادشاہ اورنگ زیب قرآن شریف کی کتابت کیا کرتا تھا رسول کریم ﷺ گھر کے کام کاج میں عورتوں کا ہاتھ بٹاتے۔کام کرنا عیب کی بات یا ہتک نہیں۔صلى الله