اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 186
186 باتیں ہمارے مذہب میں موجود ہیں تو وہ ہم پر ہنسیں گے جبکہ ہم ان باتوں پر عمل کر کے نہ دکھا ئیں۔میں نے بتایا تھا کہ یور چین تمدن کی وہ باتیں جو قرآن کریم اور حدیث کے ماتحت نہیں ان کو تو رڈ کر دینا چاہیئے لیکن جو قرآن اور حدیث میں موجود ہیں انہیں اختیار کر لینا چاہیئے مگر اس طرف توجہ نہ ہوئی۔اور اس بارے میں اتنی روک مردوں کی طرف سے نہیں ہے جتنی عورتوں کی طرف سے ہے۔عورتوں میں اتنی دلیری نہیں ہے کہ پرانی رسموں اور رواجوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔اگر چہ ہم اس وقت پورے طور پر اس بات کا فیصلہ نہ کر سکیں کہ عورتوں کو کس حد تک مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیئے۔مگر یہ تو موٹی بات ہے کہ اسلام نے مرد وں اور عورتوں کا اتحاد ایک حد تک ضروری قرار دیا ہے۔اسلام نے مرد عورت کا ایک حد تک ملنا منع رکھا ہے۔حدیث میں آتا ہے اگر مردسوار ہو اور عورت پیدل جارہی ہو تو عورت کو اپنے پیچھے سوار کر لے۔جب ایک مرد ایک عورت کو اس طرح سوار کر کے گھر پہنچا سکتا ہے تو قومی اور مذہبی کاموں میں کیوں مرد و عورت بل کر کام نہیں کر سکتے۔وہ وقت آئے گا اور ضرور آئے گا کہ جب مرد و عورتیں مل کر کام کریں گے۔معلوم نہیں ہماری زندگی میں آتا ہے یا بعد میں مگر آئے گا ضرور۔البتہ ڈر ہے تو اس بات کا کہ عورتوں کو اسلام نے جو آزادی دی ہے وہ نہ دینے کی وجہ سے وہ حدود بھی نہ ٹوٹ جائیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں۔تربیت اولا د اور مائیں ماسٹر محمد الدین صاحب نے اپنی تقریر میں ایک نکتہ بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جت ہے۔اگلے جہان کی بخت تو الگ رہی اس دنیا کی رخت بھی ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔تعلیم و تربیت کا جس قدر اثر بچہ پر ہوتا ہے اتنا اور کسی چیز کا نہیں ہوتا اور یہ ماں کے سپر د ہوتی ہے۔ہمیں تعلیم وتربیت میں جس قدر مشکلات در پیش ہیں ان میں عورتوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔عورتیں کہتی ہیں ہمیں پیچھے رکھا ہوا ہے ہمیں کوئی کام نہیں دیا جاتا۔میں کسی پر الزام نہیں لگا تا مگر اس ظلم کی وجہ سے جو متواتر عورتوں پر ہوتا چلا آ رہا ہے اور وہ گری ہوئی ہیں یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا کہ وہ خود بھی ہمت نہیں کرتیں کہ ہمارا ہاتھ بٹائیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ عورتوں کے لئے کوئی باہر کا کام کرنا یا ملازمت کرنا نا جائز ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ عورتوں کے کثیر حصہ کا کام گھر میں ہی ہے۔یورپ میں جہاں اتنی آزادی اور اتنی تعلیم ہے وہاں بھی۔9 فیصدی عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ عورتیں کثرت سے مردوں کی طرح کاروبار میں حصہ لے