اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 176
176 پیدا ہونے سے پہلے بھی دنیا آبادتھی اور یہ بعد میں آیا اور اس کے نہ آنے سے پہلے کوئی نقصان نہیں تھا اور دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا جابر و فاتح بادشاہ جو گزرا ہے اُس کے نہ رہنے اور مر جانے سے دنیا کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور دنیا ویسے ہی آباد چلی آرہی ہے۔بڑے بڑے بادشاہ جو ایک وقت حکومت کرتے تھے ایک وقت آیا کہ اُن کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔انسان کو چاہیئے کہ اپنی پیدائش پر غور کرتا رہے۔اس سے اُس میں تکبر پیدا نہیں ہوگا اور وہ بہت سے گنا ہوں سے بیچ جائے گا۔بچہ کی پیدائش پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا۔ہر ایک انسان پر ایسا زمانہ آیا ہے کہ دنیا میں اُس کا کوئی مذکور نہیں تھا۔پھر ہم نے اُس کو مختلف چیزوں کے خواص سے تسبیح اور بصیر انسان بنا دیا۔انسان کیا ہے انہی چیزوں یعنی مختلف قسم کے اناجوں، ہوں بہتر کاریوں اور گوشت کا خلاصہ ہے جو ماں باپ کھاتے ہیں۔بچہ ماں باپ سے ہی پیدا ہوتا ہے اور کبھی کوئی محمد آسمان سے نہیں گرا۔دیکھو اگر کسی شخص کی غذا بند کر دی جائے تو اُس کے ہاں بچہ پیدا ہونا تو در کنار وہ خود بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔روح کی پیدائش پھر بچہ ہی سے رُوح پیدا ہوتی ہے۔عام لوگوں کا خیال ہے کہ بچہ تو ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے رُوح کہیں آسمان سے آ جاتی ہے جو اللہ تعالے کے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے مگر یہ خیال روح کی نسبت غلط ہے۔صحیح یہ ہے کہ روح بھی ماں باپ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور یہ ایک بیہودہ اور لغو خیال ہے کہ بچہ تو ماں۔