اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 165
165 دینا چاہیئے جسے وہ اپنے پاس جمع رکھ سکیں کیونکہ ایسی حالت میں شریر اور آوارہ لڑکے اُن کے پاس جمع ہو کر اُن کے اخلاق کو خراب کر دیتے ہیں اور اُن کو بھی آوارہ بنا دیتے ہیں۔چونکہ غریب لڑکوں کے گرد جمع ہو کر اُن کو کچھ حاصل نہیں ہوسکتا اس لئے جن لڑکوں کو بڑی عادتیں پڑ جاتی ہیں وہ امیر لڑکوں کو تاڑتے رہتے ہیں اور آوارہ گر دلڑ کے اپنی بد عادات کے پورا کرنے کے لئے امیروں کے لڑکوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔مجھے نہایت سخت حیرت ہوئی اپنے ایک معزز دوست پر کہ وہ اپنے بچے کو پچاس روپے ماہوار صرف جیب خرچ دیتے تھے اور ابھی کہتے تھے میں نے اس کا جیب خرچ آگے سے کم کر دیا ہے۔میں اس لئے اسے اتنا جیب خرچ دیتا ہوں کہ تا قادیان میں اس کا دل لگا ر ہے۔وہ ایک مخلص شخص ہیں اور اُن کا لڑکا بھی ابھی گو بچہ ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں مخلص ہے۔مگر یہ طریق بچے کے اخلاق کو سخت بگاڑنے والا ہے۔بچے کو اس کا جیب خرچ روزانہ اتنا دینا چاہئے جس سے اس کی اس وقت کی ضرورت پوری ہو جائے۔پھر ماں باپ کو یہ بھی دیکھ لینا چاہیئے کہ جس ضرورت کے لئے اُس نے پیسے لئے ہیں اُس پر اُس نے خرچ بھی کئے ہیں یا نہیں۔پہلے اس سے دریافت کر لینا چاہیئے کہ کس ضرورت کے لئے وہ پیسے لیتا ہے۔مثلاً وہ خربوزے لینا چاہتا ہے یا آم خریدنا چاہتا ہے یا کیا۔اور پھر اس بات کی تحقیق کر لینی چاہیئے کہ بتائی ہوئی ضرورت کے مطابق اُس نے چیز لی بھی ہے یا نہیں۔اگر اس طرح نگرانی کی جائے تو بچے آوارگی سے بچ جائیں گے اور ان کے پاس آوارہ اور بد عادات کے لڑکے جمع نہ ہو سکیں گے۔ایک نقص بچوں کے اخلاق کو بگاڑنے والا غربت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ ایسے ماں باپ بعض دفعہ خود حریص ہوتے ہیں وہ کوئی چیز لاتے ہیں تو خود کھا لیتے ہیں اور بچہ کو نہیں دیتے اس لئے بچہ گھر سے چوری نکال کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ باہر کی بھی چوری کرنے لگ جاتا ہے اس طرح اس کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں اور وہ آوارہ ہو جاتا ہے اس لئے ماں باپ کو چاہئے کہ اگر کوئی چیز گھر میں آئے تو پہلے بچوں کو دیں پھر آپ کھائیں۔دوسرا نقص جو اس غربت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے وہ اس طرح کہ بعض ماں باپ ایسا تو نہیں کرتے کہ چیز خود کھالیں اور بچے کو نہ دیں لیکن جب بچے کے دل میں کسی چیز کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ خود نہیں خرید سکتے تو دوسروں سے مانگ کر کہ ہمارے بچے کا بھی دل کر رہا ہے اس طرح وہ دے دیتے ہیں۔مگر اس طریق