اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 9
9 رکھیں کہ جب وہ خدا تعالیٰ کے حضور حاضر کی جائیں گی تو اُن سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم پڑھی ہوئی ہو یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ اسلام کی باتیں تمہاری عقل میں آتی تھیں یا نہیں اور ایسی کون سی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آسکتی۔کیا نماز کا پڑھنا سمجھ میں نہیں آتا؟ خواہ کتنا ہی کسی کا حافظہ خراب ہو وہ نماز کو یاد کر سکتی ہے کیونکہ بہت مختصر عبارت ہے۔پھر کیا روزہ ، زکوۃ اور حج کے سمجھنے میں یا خدا تعالیٰ کو ایک جاننے میں یا بحضرت مے کو ہی سمجھنے میں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سیح موعود اور نبی اللہ مانے میں کونسی مشکل ہے؟ کچھ نہیں۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ہر ایک انسان آسانی سے سمجھ اور سیکھ سکتا ہے۔پس کوئی عورت یہ خیال نہ کرے کہ میں پڑھی ہوئی نہیں۔اگر نہیں پڑھی ہوئی تو بھی دین سیکھے اور اوروں کو سکھائے۔پڑھے ہوئے اور ان پڑھ سب کا فرض ہے کہ دین سیکھیں اور عمل کریں۔خدا تعالیٰ نے عقل اسی لئے دی ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں اور سوچیں اور دوسروں کو سکھائیں۔حضرت عیسی کی وفات کا مسئلہ دیکھو اب ہمارے سلسلہ کے مسائل ہیں۔سب سے بڑی بات تو وفات مسیح کا جھگڑا ہے۔جس عورت سے بات چیت ہوا سے کہو کہ قرآن شریف کی ان آیات کا صرف ترجمہ ہی سُن لے۔خواہ مخالف مولوی سے ہی سنے۔وہ آیات یہ ہیں۔إِذْ قَالَ اللهُ یا إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ اور جب کہا اللہ تعالیٰ نے کہ اے عیسی میں تجھے ماروں گا اور اپنی طرف اُٹھالوں گا اور تجھ کو پاک کروں گا اُن لوگوں سے جو کافر ہوئے اور جو عيسى تیرے متبع ہوں گے اُن کو ان لوگوں پر جو کافر ہوئے غالب کروں گا قیامت کے دن تک۔یہاں خدا تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام کی نسبت ماروں گا پہلے فرمایا اور اُٹھالوں گا بعد میں۔اگر اُٹھالوں گا کے یہ معنے ہیں آسمان پر زندہ اُٹھالوں گا تو یہ آیت ہی غلط ہو جاتی ہے اور ( نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ پر یہ الزام آتا ہے کہ اُسے عربی بھی نہیں آتی کیونکہ جب حضرت عیسے کو اُس نے زندہ آسمان پر اٹھا لینا تھا تو پھر پہلے یہ کیوں فرمایا کہ ماروں گا اور بعد میں فرمایا کہ اُٹھاؤں گا۔کیا خدا تعالیٰ کو اتنی عربی بھی نہیں آتی کہ الفاظ کو درست بولے۔۔اور آگے پیچھے کر کے فقرہ کو غلط نہ کر دے۔پس خدا تعالیٰ نے جس طرح فرمایا ہے اسی طرح درست اور صحیح ہے۔جب اُس نے فرمایا کہ پہلے ماروں گا اور بعد میں اٹھاؤں کا تو اس کے ہیں درست معنے ہیں کہ پہلے حضرت مسیح کو وفات ہوگی اور پھر اُن کی روح اٹھائی جائے گی نہ کہ وفات سے پہلے