اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 122

122 سوال جو ہمارے لئے زندگی اور موت کا سوال ہوگا اُس کے لئے روپیہ کی انتہاء خواہ کوئی بھی ہو اس لئے نہ ہوگی کہ اس سے زیادہ ہم دینا نہ چاہیں گے بلکہ اس لئے ہوگی کہ ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ اور ہوگا ہی نہیں۔باقی صرف جانیں ہوں گی اور جانوں کے دینے سے بھی دریغ نہ ہوگا۔کیا عقلمند اور سمجھدارلوگوں کے لئے یہ بات غور و فکر کے قابل نہیں ہے کہ ایک ایسی قوم جو مدتوں سے مُر چلی آتی ہے اُس کے افراد میں ایسی روح ایسا جوش اور ایسا ولولہ پیدا ہو جائے یہ کوئی معمولی بات نہیں۔یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے کہ اُس نے ایسی حالت پیدا کر دی ہے۔یہ کسی انسان کا کام نہیں ہوسکتا۔دیکھو بڑے بڑے لوگ اُٹھے جنہوں نے لوگوں کی عقلوں اور فہموں پر تصرف حاصل کر لیا مگر اُن کا تصرف عارضی اور چند دن کا تھا۔مسٹر گاندھی کو کتنا عروج ہوا مگر عارضی محمد علی شوکت علی صاحبان کو کس قدر لوگوں نے بلند کیا مگر عارضی، کچھ عرصے پہلے مسٹر گاندھی کا کتنا شور تھا مگر دو ہی سال کے عرصہ میں آج ان کو لوگوں پر پہلے اثر کا دسواں حصہ بھی حاصل نہیں۔ان عارضی جوشوں کی ایسی ہی مثال ہوتی ہے جیسے روڑیوں پر پھول آگ آتے ہیں اور چند دن میں مر جھا جاتے ہیں مگر جو پھول باغ میں ہوتے ہیں اُن کی باغبان نگرانی کرتا ہے ایک مُرجھا جاتا ہے تو دوسرا اُس کی جگہ لگا دیتا ہے۔تو انسانوں کے پیدا کئے ہوئے جوش مستقل نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کے پیدا کر وہ جوشوں میں استقلال ہوتا ہے۔جب کبھی ڈراستی پیدا ہونے لگے تو اور جوش پیدا کر دیتا ہے۔برتن میں مسجد کے متعلق جو تحریک کی گئی ہے اُس میں دیکھا گیا ہے کہ عورتوں نے اپنے اخلاص کا ایسا الے نمونہ دکھایا ہے جو کسی اور جگہ ہر گز نہیں مل سکتا۔اس وقت تک ۲۵ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں اور کوئی تعجب نہیں کہ جو تم کہی گئی ہے اس سے بہت زیادہ ہو جائے کیونکہ ابھی تک کئی جماعتیں باقی ہیں۔اس تحریک کے متعلق بھی دیکھا جائے تو اس میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور وہی بات میں آج پیش کرنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ خدا تعالے نے بعض ایسے سامان پیدا کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاں یہ تحریک مقبول ہے۔جہاں دوسرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ مال خرچ کرنے کی وجہ سے اُن میں سے لوگ مُرتد ہو جاتے ہیں وہاں ہمیں ایک نیا تجربہ ہوا ہے۔میں نے اس مسجد کی تحریک کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ احمدی عورتوں کی طرف سے یہ مسجد ہو گی جو ان کی طرف سے نو مسلم بھائیوں کو بطور ہدیہ پیش کی جائے گی۔اب بجائے اس کے وہ عورتیں جنہیں کمزور کہا جاتا ہے اس