اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 88
88 جائے۔بذریعہ تصویر اشتہار دیا جائے تو وہ دائیں طرف ہو یا بائیں طرف۔غرض خاص فن ہے اور جو اس علم کے ماہر ہیں وہ بہت بڑی رقمیں لے کر اشتہار لکھتے ہیں۔علم موسیقی (۱۵) پندرواں علم۔علم موسیقی ہے یعنی گانے کا علم۔اس میں یہ بتایا جا تا ہے کہ گا نا کس طرح چاہیے۔اونچی اور نیچی آواز کس طرح نکالنی چاہئے۔بابے کو اگر ساتھ ملایا جائے تو آواز میں کس طرح موافقت پیدا کی جائے اسی طرح اس میں یہ آتا ہے کہ آواز کس طرح پر خوشی اور غم و افسردگی پیدا کرتی ہے، کونسی آواز میں ہمت و جرات پیدا ہوتی ہے۔یہ ایسا علم ہے کہ جذبات ابھر سکیں۔ایک شخص جو روپیہ خرچ نہیں کر سکتا۔ایک عمدہ گانے والا اُس میں ایسی کیفیت پیدا کر سکتا ہے کہ سب روپیہ اُس سے لے لے یائے دل نا دے یا ہمت پیدا کر دے۔یہ خاص فن ہے اس میں صرف آواز کے اونچے نیچے کرنے سے جذبات اُبھرتے ہیں اور بہت ہی نازک فن ہے۔چونکہ اس میں بعض نقائص ہیں اس لئے اسلام نے جائز نہیں رکھا۔ڈراما نویسی۔(۱۲) سولھواں علم ڈراما نویسی ہے۔ڈرا مادہ ہے جس کو عملی طور پر کرنا ہوتا ہے نا تک میں جہاں با دشاہ وزیر یا ڈاکٹر لکھا ہے تو اس میں بن کر دکھایا ہے۔عملی طور پر جب ڈراما کر کے دکھایا جائے تو اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔پھر اس کے کئی حصے ہیں۔جب اس کو سٹیج پر کر کے دکھایا جاتا ہے تو دلچسپ ہوتا ہے۔کتابوں میں سرسری طور پر پڑھیں تو بعض اوقات بہت خشک معلوم ہوتا ہے۔ڈراما نویس ان باتوں کا خیال رکھتا ہے کہ اُس کی تصنیف میں ایک اثر اور جذب ہو اور شیخ پر کرتے وقت اُس میں کوئی ایسی بات نہ پیدا ہو جو بے لطفی اور کمزوری کا موجب ہو۔میں نے علوم کی اس تقسیم میں کوئی بھی تقسیم نہیں کی کیونکہ ایسی تقسیم ایک لمبا عرصہ چاہتی ہے بلکہ میں نے اس تقسیم میں سرسری طور پر جو جو علم میرے سامنے آتا گیا اُس کو بیان کر دیا ہے۔کھانے پینے کے علوم :۔(۱۷) سترھواں علم علم الاغذيه والا شر بہ ہے۔اس میں یہ بتایا ہے کہ کون سی غذا ئیں کھانے کے قابل ہیں، صحت کے لئے کس قسم کی غذا مفید ہوتی ہے اور کس قسم کی غذاؤں کا خراب اثر صحت پر پڑتا ہے۔پھر اسی میں یہ داخل ہے کہ سردی یا گرمی میں کس کس قسم کی غذائیں استعمال کرنی چاہیں۔بیمار ہو جائے تو اس کی غذا کا خاص اہتمام کس طریق پر کیا جاتا ہے اور اُس کی غذاؤں میں کن امور کو مد نظر رکھنا