اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 86

86 قضوں میں ضروری ہوتی ہیں بڑوں میں وہ نہیں۔بعض بڑا ناول لکھتے ہیں اور بعض کہانی اور فسانہ لکھتے ہیں۔علم تقریر (۸) آٹھواں علم بھی علم زبان کے متعلق ہے اور یہ بھی ایک مستقل علم ہے۔اس کو علم خطابت کہتے ہیں یعنی تقریر کرنے کا علم لیکچر دینے کا فن۔اس علم میں اس بات سے بحث ہوگی کہ مقرریعنی تقریر کر نیوالا ایسی تقریر کر سکے کہ سننے والوں کی توجہ دیکھاری کی طرف ہو اور اس کلام اور بیان میں اثر اور قوت ہو کہ اگر سننے والے اُس کے خلاف بھی ہوں تو بھی مئوید ہو سکیں۔اس علم میں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح پر مقرر کو اپنے مضمون کی تقسیم اور ترتیب کرنی چاہیے اور کس طرح پر اپنے کلام میں قوت اور اثر پیدا کرنا ہوگا۔مضمون نویسی (۹) نو اس علم مضمون نویسی کہنا چاہئے جس کو انگریزی میں اسے رائٹنگ اور ہماری زبان میں جواب مضمون کہتے ہیں۔یہ مضمون نویسی ، اخبار نویسی کے علاوہ ایک علم ہے۔اس میں بعض کیفیتوں اور جذبات کا ذکر ہوتا ہے۔مثلاً محبت پر جب مضمون لکھا جائے گا تو اُس کی کیفیت اور حقیقت بیان کرنی ہوگی۔اسی میں ان امور پر بحث ہوگی جو محبت کے اثر کوقوی بناتے ہیں اور پھر اس کے نتائج کو بیان کرنا ہوگا اس طرح اگر نفرت پر لکھتا ہے تو اس کی ساری کیفیت کا ایک نقشہ کھینچ کر سامنے رکھ دیا جائے۔صرف ونحو (۱۰) دسواں علم۔جو زبان کے متعلق ہے وہ صرف ونحو کا علم ہے۔صرف کے معنے ہیں الفاظ کے ہیر پھیر اور صیغوں کا علم بتانا بحیثیت الگ الگ لفظ کے۔مثلاً کھانا ایک لفظ ہے۔اس سے کھایا ، کھاتا۔کھائے گاو غیر ومختلف الفاظ جو بنتے ہیں اُن کی بابت یہ علم دینا کہ وہ کس طرح بنتے ہیں اور اُن کے ان تغیرات کا کیا اثر ہوتا ہے۔معنوں میں کیا تغیر ہوتا ہے۔اور صورت میں کیا تغیر آتا ہے، ان میں سے ہر ایک سے کیا مراد ہو گی ، کیا وہ واحد ہے جمع ہے؟ مونث کے لئے کیا آتا ہے مذکر کے لئے کیا بولتے ہیں۔تمو کا علم یہ بتاتا ہے کہ الفاظ مل کر کیا مفہوم بناتے ہیں، الفاظ کی ترتیب اور ترکیب کس طرح ہونی چاہیئے پہلے کس لفظ کولا نا ہو گا اور آخر میں کون سا؟ اور الفاظ کے اس طرح ترتیب دینے سے اُن کے مفہوم اور مطلب میں کیا اثر پڑتا ہے؟ جیسے میں نے روٹی کھائی، کھائی روٹی میں نے وغیرہ نحو کے علم کے ذریعہ یہ معلوم ہوگا کہ ان میں درست املہ کونسا ہو گا۔پھر ہر ایک زبان کی تموتر تیب الفاظ کو اپنے قاعدہ کے موافق بنائے گی۔جس ملک میں کوئی شخص پیدا ہوتا ہے اور اُس کی مادری زبان یا ملکی زبان جو بھی ہو وہ اُس میں درست بولے گا لیکن غیر زبان کو بغیر نو کے علم کے وہ صحیح طور پر نہیں بول سکے گا اس کے لئے نحو کا جانا ضروری ہوگا۔