اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 2

2 ہماری حاجتیں پوری کرتا ہے، ہماری دعاؤں کو سنتا ہے، ہمیں چاہیئے کہ اس کا شکر ادا کریں۔بچہ کھانے پینے بیٹھے ماں باتوں ہی باتوں میں اُسے سمجھا سکتی ہے کہ یہ کھانا کتنی محنت اور کس قد رتبدیلیوں کے بعد تیرے سامنے آیا ہے حالانکہ تجھے کچھ بھی محنت کرنی نہیں پڑی یہ سب اس پاک مولی کا احسان ہے جس نے اول ان چیزوں کو پیدا کیا پھر ایسے اسباب مہیا کئے کہ وہ تیرے لئے تیار ہو اور اب وہی پاک ذات ہے جو تیرے لئے اسے نافع بنائے۔اسی طرح مائیں اگر چاہیں تو بچوں کو سوتے وقت تارے چاند اور آسمان۔دن کو دوسرے نظارہ ہائے قدرت کی طرف متوجہ کر کے خدا تعالی کی طرف توجہ دلا سکتی ہیں۔میں احمدی ماؤں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ننھے ننھے بچوں میں خدا پرستی کا جذ بہ پیدا کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہیں۔وہ انہیں لغو مخرب اخلاق اور بے سر و پا کہا نیاں سنانے کی بجائے نتیجہ خیز ، مفید اور دیندار بنانے والے قصے سنائیں۔اُن کے سامنے ہرگز کوئی ایسی بات چیت نہ کریں جس سے کسی بد خلق کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔بچہ اگر نادانی سے کوئی بات خلاف مذہب اسلام کہتا ہے یا کرتا ہے اسے فوراً روکا جائے اور ہر وقت اس بات کی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے قلب میں جاگزیں ہو۔اپنے بچوں کو بھی آوارہ نہ پھرنے دو، اُن کو آزاد نہ ہونے دو کہ حدود اللہ کو توڑنے لگیں ، اُن کے کاموں کو انضباط کے اندر رکھو اور ہر وقت نگرانی رکھو ، اپنے ننھے بچوں کو اپنی نوکرانیوں کے سپر د کر کے بالکل بے پروانہ ہو جاؤ کہ بہت ہی خرابیاں صرف اسی ابتدائی غفلت سے پیدا ہوتی ہیں۔ماں اپنے بچے کو باہر بھیج کر خوش ہوتی ہے کہ مجھے کچھ فرصت مل گئی ہے لیکن اُسے کیا معلوم ہے کہ میرا بچہ رکن کن صحبتوں میں گیا اور مختلف نظاروں سے اُس نے اپنے اندر کیا بر نے نقش لئے جو اُس کی آئندہ زندگی کے لئے نہایت ضرر رساں ہو سکتے ہیں۔پس احتیاط کرو کہ اس وقت کی تھوڑی سی احتیاط بہت سے آنے والے خطروں سے بچانے والی ہے۔خود نیک بنو اور خدا پرست بنو کہ تمہارے بچے بھی بڑے ہوکر نیک اور خدا ( الفضل ١٠ - ستمبر ١٩١٣ء) پرست ہوں۔