اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 80
80 نام ہو جائیں۔مثلاً رات کو کسی فاحشہ عورت کے گھر میں جاسوتے ہیں اور وہاں جا کر تہجد پڑھتے رہتے ہیں۔لیکن یہ ایسا طریق ہے کہ اس کا خطرہ زیادہ ہے۔بعض لوگ اس طریق کو اختیار کر کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور مختلف قسم کی گندگیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس سے نفس موٹا نہیں ہوتا مگر دراصل اس کا اثر اکثر خراب ہوتا ہے۔نواں علم علم القضاء ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ کس رنگ میں امور متنازعہ کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔گواہ کا بیان کس طرح پر ہو ، اس پر جرح کس طرح پر ہو، کیا اُمور اسکی شہادت کے وزن کے لئے ضروری ہیں، قاضی کا علم واقفیت اور تقویٰ اور طہارت کیسی ہو۔دوسرا حصہ اسی علم کے متعلق تاریخ القضاء ہے۔کس کس طرح یہ محکمہ مکمل ہوا اور کون سے بڑے قاضی اسلام میں گزرے ہیں؟ دسواں علم علم الفرائض والمیراث ہے۔میراث کے قانون اگر چہ فقہ میں شامل ہیں مگر یہ مستقل علم ہے کیونکہ اس کا اثر سیاست اور قوم پر آکر پڑتا ہے۔گیارھواں علم علم الا دعیہ والا ذکار ہے۔اس علم میں یہ بتایا جا تا ہے کہ کس کس وقت اور کون کون سی دُعا ئیں اور اذکار کرنے چاہئیں۔بارھواں علم علم اسیر ہے۔اس علم کے ذریعے بڑے بڑے صحابہ اور دوسرے بزرگان کے حالات کا علم ہوتا ہے۔القارة تیرھواں علم علم اخلاق ہے۔کس طرح تیری باتوں اور ادنی اخلاق کو ترک کر کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور عادات حاصل کئے جاتے ہیں۔اس میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو اخلاقی امراض انسان میں پیدا ہوتے ہیں اُن کے اسباب کیا ہیں اور کیوں ان امراض کو امراض سمجھا جاتا ہے۔چودھواں علم علم الکلام ہے۔اس علم سے یہ مراد ہے کہ غیر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی فوقیت کس طرح پر ثابت کی جاتی ہے اور اصول اسلام کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔اسی علم کلام میں ایک شاخ علم بحث ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے مذاہب جو اسلام کے مقابلہ میں ہیں اُن کے عقائد یا اصول کیونکر غلط ہیں۔مثلاً عیسائیت کا یہ مسئلہ کہ خدا تین ہیں یا خدا مجسم ہے کیوں صحیح نہیں۔یا ہندوؤں کے عقیدے کیوں درست نہیں ؟ اس علم بحث کے پھر دو حصے ہیں۔ایک حصہ وہ ہے جس