اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 46

46 لوگ خدا کی عبادت کریں تو لوگ اس کی زندگی میں ہی عبادت الہی کرنے لگ جاتے ہیں اور اگر چاہتا ہے کہ ایک ایسی جماعت ہو جاوے جو کہ متقی جماعت ہو تو اس کی زندگی میں وہ جماعت بن جاتی ہے۔ان ترقیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سواں سید ہوتا جب اس درجے تک بندہ پہنچ سکتا ہے تو کوئی خاص بات اس میں ہے کیا ہم بھی اس درجہ تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔اس کے متعلق حضرت محمد یا یہ فرماتے ہیں کہ میں بھی تمہاری طرح ایک بندہ ہوں مجھ میں تم سے زیادتی نہیں جب تم یہ دیکھو گے کہ خدائے تعالی نے مجھے پر اپنے فضل کئے ہیں تو تم بھی کوشش کرو کہ تم بھی ایسا مرتبہ حاصل کرو۔مثلاً جب تم کسی کو کوئی عمدہ زیور یا کپڑا وغیرہ پہنے ہوئے دیکھتی ہو تو تم اس کے خریدے بغیر چین نہیں کرتیں۔اگر یہ معلوم ہو جائے کہ حضرت محمد رسول اللہ پر جو انعامات ہوئے وہ تم بھی لے سکتی ہو اور اگر تم وہ انعامات نہیں لے سکتیں تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔پہلی یہ کہ حضرت محمد سے میں کوئی خوبی نہیں یا یہ کہ محمدرسول اللہ کوتم اچھا بجھتیں ہو مگر اپنی طاقت اتنی نہیں سمجھتی کہ وہ فضل تم حاصل کر سکو۔تب یہ بات نعوذ یا اللہ جھوٹی ہوتی ہے کہ حضرت محمد نے فرماتے ہیں کہ میں بھی تمہاری طرح ایک بندہ ہوں اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٍ مِثْلُكُمْ یعنی کہ دے میں تمہارے جیسا ایک بندہ ہوں۔محمد رسول اللہ ہے جو دنیا میں تشریف لائے تھے وہ گویا خدا کے ایک گماشتے تھے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مال کے نمونے لائے تھے یعنی اللہ تعالیٰ کے جتنے فعل اور جتنی صفتیں ہیں وہ دکھانے آئے تھے کہ ان صفات کو دیکھ کر لوگوں کو خواہش پیدا ہو اور وہ کوشش کر کے اللہ تعالیٰ سے جاملیں تو مرد اور عورت یونہی پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود کسی مطلب کے لئے انہیں پیدا کیا ہے وہ مطلب یہی ہے کہ خدا تعالی اپنی مالکیت ظاہر کرے۔خدار زاق ہے اُس نے رزق اپنے آپ کو تو دینا نہیں اس لئے اس کے دینے کے لئے بندوں کی ضرورت تھی۔تو اسی طرح خدا رحم کرنے والا ہے ضر روی تھا کہ مظلوم بھی ہوں تا کہ اُن پر خدا رحم کرے۔6 ہر ایک خدا کا شیشہ ہے غرض اللہ تعالی کی جو صفتیں ہیں ان کے ظاہر کرنے کے لئے اُس نے بندے پیدا کئے۔تو ہم میں سے ہر ایک شخص شیشہ ہے جس میں خدائے تعالی اپنا چیرو دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں شیشہ بناؤں دو شیشہ بندے کا دل بنایا، اس پر اپنی شکل ڈالی۔مثلا خداز ہ ہے تو کیا واقعی تم بھی پرورش کرتی ہو۔اللہ مالک ہے چاہے سزا دے یا معاف کرے تو کیا تم بھی معاف کرتی ہویا